حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء گزشتہ دنوں سےریاستی حکومت کے خلاف 400 ایکڑ اراضی پر ترقیاتی کام انجام دینے کے منصوبہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔ احتجاجی طلباء یونیورسٹی کے مین گیٹ پر جمع ہوئے اور ریاست کے چیف منسٹر اےریونت ریڈی کی قیادت والی کانگریس حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔حیدرآباد یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (UOHSU) اور دیگر ملحقہ یونینوں کے علاوہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) نے بھی یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کیا۔ حیدرآباد یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے نائب صدر آکاش نے مطالبہ کیا کہ پولیس اور جنگل میں درختوں کی کٹائی کرنے والی 50 سے زائد JCB مشینوں کو یونیورسٹی کیمپس سے فوری ہٹایا جائے۔
سوال صرف زمین کا نہیں ہے بلکہ ماحولیاتی نظام کاہے :ابھیشیک کمار
میڈیا رپورٹ کے مطابق ابھیشیک کمار، جو ایچ سی یو میں پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ سوال صرف زمین کا نہیں ہے بلکہ ماحولیاتی نظام کاہے زندہ جانوروں کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ زمین پر درختوں اور پودوں کو گرانے کے لیے 50 سے زائد جے سی بی مشینیں لگائی گئی ہیں جس کی وجہ سے وہاں رہنے والے جانور پریشان ہو رہے ہیں۔ ابھیشیک نے کہا کہ حکومت کو حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام کی خاطر اس زمین پر ترقیاتی کام کرنے کے منصوبوں کو ترک کر دینا چاہیے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
تلنگانہ حکومت متنازعہ اراضی پر ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) انسٹی ٹیوٹ اور دیگر پروجیکٹس تیار کرنا چاہتی ہے۔ حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج اس وقت مزید پرتشدد ہوگیا جب حکومت نے پیر کو یہ دعویٰ کیا کہ یہ زمین یونیورسٹی کی نہیں بلکہ ریاستی حکومت کی ہے۔ تاہم، یونیورسٹی کے رجسٹرار نے حکومت کے اس دعوے کی تردید کی کہ متعلقہ اراضی کی حدود کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ وہیں احتجاج کرنے والے طلباء نے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کیا کہ زمین کا باضابطہ طور پر یونیورسٹی کے تحت اندراج کیا جائے گا۔ انہوں نے اس معاملے پر یونیورسٹی کی طرف سے منعقدہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے اہم نتائج کو عام کرنے اور زمین سے متعلق دستاویزات میں مزید شفافیت برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کیا۔