Wednesday, July 15, 2026 | 28 محرم 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • کڈانکولم نیوکلیئر پلانٹ سے متعلق مبینہ حساس ڈیٹا لیک، سیکیورٹی پر سوالات

کڈانکولم نیوکلیئر پلانٹ سے متعلق مبینہ حساس ڈیٹا لیک، سیکیورٹی پر سوالات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 15, 2026 IST

کڈانکولم نیوکلیئر پلانٹ سے متعلق مبینہ حساس ڈیٹا لیک، سیکیورٹی پر سوالات
تمل ناڈو میں واقع کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق مبینہ حساس معلومات کے لیک ہونے کی اطلاعات نے ملک کی سائبر سیکیورٹی اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ "ورلڈ لیکس" نامی ایک ہیکر گروپ نے پلانٹ سے متعلق تقریباً 19 ہزار حساس فائلیں آن لائن شائع کی ہیں، جن میں مبینہ طور پر بلیو پرنٹس، سپلائرز کی تفصیلات، میٹنگ اور انسپکشن ریکارڈ، آلات کے جائزے اور انشورنس دستاویزات شامل ہیں۔
 
رپورٹس کے مطابق، ہیکر گروپ کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈیٹا انیل امبانی کے ریلائنس گروپ سے حاصل کیا گیا، جو کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بعض منصوبوں میں ٹھیکیدار کے طور پر کام کر رہا ہے۔
 
میڈیا رپوٹ مطابق، ریلائنس گروپ نے جزوی ڈیٹا لیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ معلومات ایک تیسرے فریق کے ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کنندہ یوٹا کے سرورز پر محفوظ تھیں۔ کمپنی نے اس واقعے کی اطلاع بھارتی حکومت کو دے دی ہے، تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا مخصوص ڈیٹا متاثر ہوا ہے۔
 
کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ ہندوستان کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھروں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی حساس معلومات کے لیک ہونے کے دعوے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ جوہری سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کا ڈیٹا واقعی لیک ہوا ہے تو اس کے سیکیورٹی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
 
جوہری سلامتی سے متعلق بین الاقوامی ادارے نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کے مطابق، ایسے واقعات اہم تنصیبات کی سائبر سیکیورٹی پر سوالات کھڑے کرتے ہیں اور حساس بنیادی ڈھانچے کو ڈیجیٹل حملوں سے محفوظ رکھنے کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔
 
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے 2016 سے 2025 کے درمیان کی مبینہ لیک شدہ دستاویزات کا جائزہ لیا، تاہم ان فائلوں کی صداقت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسی لیے ان دعوؤں کی حتمی تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
 
رپورٹس کے مطابق، ریلائنس انفراسٹرکچر کو 2018 میں کڈانکولم نیوکلیئر پلانٹ کے یونٹ 3 اور 4 کی تعمیر کا ٹھیکہ ملا تھا۔ یہ دونوں یونٹ زیر تعمیر ہیں اور 2027 تک ان کے آپریشنل ہونے کی توقع ہے، جہاں سے مجموعی طور پر 2,000 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔
 
دوسری جانب "ورلڈ لیکس" نامی ہیکر گروپ ماضی میں بھی کئی بڑی عالمی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کر چکا ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ گروپ مبینہ طور پر تاوان کی غرض سے ڈیٹا چوری کرتا ہے اور ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں معلومات کو عوامی کر دیتا ہے۔ تاہم موجودہ معاملے میں حکام کی تحقیقات جاری ہیں اور اس وقت تک لیک شدہ معلومات کی مکمل نوعیت اور اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔