مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقے ہیبرون کے قریب مسافر یطہ کے علاقے خیربیت الدیرات سے سامنے آنے والی تصاویر نے ایک بار پھر انسانی المیے کی شدت کو اجاگر کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی کارروائی کے دوران ایک فلسطینی خاندان کا گھر مسمار کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں معصوم بچے اپنے ہی گھر کو گرتا دیکھ کر زار و قطار روتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر خوف، بے بسی اور غیر یقینی مستقبل کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔
یہ بچے شاید ابھی یہ بھی نہیں سمجھتے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، مگر ایک لمحے میں ان کی چھت، ان کی محفوظ پناہ گاہ اور ان کے بچپن کی یادیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں۔ ایسے مناظر صرف ایک عمارت کے گرنے کی کہانی نہیں سناتے بلکہ ان جذباتی اور نفسیاتی اثرات کی بھی عکاسی کرتے ہیں جو بچوں اور خاندانوں پر برسوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ بے گھر ہونے والے خاندانوں کے تحفظ کے لیے کیا مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ بچوں کے بنیادی حقوق، جن میں محفوظ رہائش، تعلیم اور تحفظ شامل ہیں، ایسے حالات میں کیسے یقینی بنائے جائیں گے؟ اور کیا تنازعات کے دوران شہری آبادی، خصوصاً بچوں، کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید مؤثر بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت نہیں؟
عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ مسلح تنازعات میں شہریوں، خصوصاً بچوں، کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایسے واقعات کے بعد متاثرہ خاندانوں کو فوری انسانی امداد، رہائش اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت بھی سامنے آتی ہے۔
ہر بچے کا حق ہے کہ وہ ایک محفوظ گھر، تعلیم، کھیل اور پُرامن ماحول میں زندگی گزارے۔ جب ایک بچہ اپنا گھر کھو دیتا ہے تو صرف اینٹیں اور دیواریں نہیں گرتیں، بلکہ اس کے مستقبل سے جڑی بہت سی امیدیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر دنیا کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کراتا ہے کہ تنازعات کا سب سے زیادہ بوجھ اکثر وہ معصوم بچے اٹھاتے ہیں جن کا ان فیصلوں اور حالات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔