ہریانہ کے روہتک میں ایک خوفناک معاملہ سامنے آیا ہے ۔ 24 دسمبر کو یہاں سے ایک یوگا ٹیچر لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی لاش 3 ماہ بعد 61 کلومیٹر دور چرخی دادری میں ملی ۔مرنے والے کا نام جگدیپ ہے جو روہتک کی بابا مستناتھ یونیورسٹی میں یوگا ٹیچر تھا۔ وہ جھجر کے گاؤں مندوٹھی کا رہنے والا تھا۔تین ماہ قبل ایسا کیا ہوا کہ انہیں قتل کیا گیا ، اس معاملہ میں دو افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔آئیے جانتے ہیں کیا ہے پورا معاملہ!
کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟
جگدیپ (45) کا خاندان جھجر میں ہے۔ وہ روہتک کی جنتا کالونی میں 3 سال سے اکیلا رہ رہے تھے۔ وہ 24 دسمبر 2024 کو پراسرار حالات میں لاپتہ ہو گئے تھے۔جب اس کی کوئی خبر نہیں ملی تو اس کے چچا نے 3 فروری کو شیواجی کالونی تھانے میں جگدیپ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔پولیس نے معاملے کی چھان بین شروع کی اور جگدیپ کی کال ڈیٹیل کی بنیاد پر ہردیپ اور اس کے ساتھی دھرم پال تک پہنچ گئی۔
جگدیپ کو کیوں قتل کیا گیا؟
اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جگدیپ جس گھر میں کرائے پر رہتا تھا اس کے مالک راجکرن کو شبہ تھا کہ اس کی بیوی کے جگدیپ کے ساتھ تعلقات ہیں۔راجکرن نے جب جگدیپ کے موبائل میں اپنی بیوی کی تصاویر دیکھی تو ان کے شک کی تصدیق ہوگئی۔اس نے اپنے گاؤں پنتاواس کے ہردیپ اور دھرم پال کی مدد سے جگدیپ کو مارنے کا منصوبہ بنایا اور گاؤں میں ہی بابا کالو والا ڈیرہ کے قریب بورویل لگانے کے نام پر ایک بڑا گڑھا کھودا۔
جگدیپ کا قتل کیسے ہوا؟
پولیس نے بتایا کہ جگدیپ کو مارنے کے لیے ہردیپ اور دھرم پال 24 دسمبر کو جنتا کالونی کے قریب پہنچے اور جگدیپ کو سڑک سے اٹھا لیا۔وہ اسے سیدھے 61 کلومیٹر دور پنتاواس گاؤں لے آئے، جہاں اسے باندھ کر مارا پیٹا گیا۔ اس کے بعد اسے 7 فٹ گہرے بورویل گڑھے میں زندہ دفن کر دیا گیا۔جب پولیس نے کال کی تفصیلات کی بنیاد پر ہردیپ اور دھرم پال کو پکڑا تو انہوں نے پورا معاملہ پولیس کو بتایا۔
ملزم راجکرن سمیت کئی افراد کی تلاش جاری :
پولیس کا کہنا ہے کہ ہردیپ اور دھرم پال کے اپنے جرم کا اعتراف کرنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو 3 ماہ بعد ایک گڑھے سے نکالا گیا۔پولیس نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ جگدیپ کو زندہ جلائے جانے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم پولیس نے کہا ہے کہ اس حوالے سے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنا باقی ہے۔کلیدی ملزم راجکرن اور کچھ دیگر کی تلاش جاری ہے۔اسکے علاوہ اس معاملہ کی تفتیش بھی مزید جاری ہے۔