بہار کے نوادہ ضلع سے انسانیت کو شرمسارکرنے والی ایک واردات سامنے آئی ہے۔ رجولی تھانہ علاقے کے ستی ستھان محلے میں اندھ وشواس کی وجہ سے دو گوتیا خاندانوں کے درمیان خونی تصادم ہوا۔ اس مارپیٹ میں 35 سالہ خاتون کرن دیوی کو پیٹ پیٹ کر بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ مقتولہ چار چھوٹے بچوں کی ماں تھی۔
جادو ٹونے کا الزام بنا موت کی وجہ
اہل خانہ کا الزام ہے کہ پچھلے تین چار دنوں سے پڑوسی گوتیا خاندان کی طرف سے کرن دیوی پر جادو ٹونہ کرنے کا جھوٹا الزام لگایا جا رہا تھا۔ جمعرات کو اسی تنازعہ نے شدید شکل اختیار کر لی اور دوسرے فریق نے سدھیر کمار چودھری کے خاندان پر جان لیوا حملہ کر دیا۔ اس حملے میں کرن دیوی کے شوہر سدھیر کمار سمیت خاندان کے چار دیگر ارکان شدید زخمی ہو گئے۔
ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ دیا:
تمام زخمیوں کو فوری طور پر سب ڈویژنل ہسپتال رجولی میں داخل کروایا گیا۔ پرائمری علاج کے دوران ہی کرن دیوی کی حالت بگڑ گئی اور انہوں نے دم توڑ دیا۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر ایلیکا بھارتی نے بتایا کہ جسم پر سنگین چوٹوں کے نشانات تھے، جو موت کی بنیادی وجہ بنے۔ ادھر، دوسرے فریق کے بھی دو افراد کے زخمی ہونے کی خبریں ہیں، جن کا نجی کلینک میں علاج جاری ہے۔
پولیس کی کاروائی:تین ملزم حراست میں
واقعے کی اطلاع ملتے ہی رجولی تھانہ انچارج کم انسپکٹر رنجیت کمار عملے سمیت موقع پر پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے تین ملزموں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایف ایس ایل (FSL) کی ٹیم نے واقعہ کی جگہ سے سائنسی ثبوت جمع کیے ہیں۔
تھانہ انچارج نے کہا، ابتدائی طور پر معاملہ دو گوتیا خاندانوں کے درمیان پرانے تنازعہ کا لگ رہا ہے۔ تاہم، اہل خانہ کی طرف سے جادو ٹونہ کا الزام لگایا گیا ہے، جس کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔ لاش کا پوسٹ مارٹم کروا کر اہل خانہ کو سپرد کر دیا گیا ہے۔
یتیم ہو گئے چار معصوم، معاشرے پر سوال:
کرن دیوی کی موت نے ان کے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کے سر سے ماں کا سایہ ہمیشہ کے لیے چھین لیا ہے۔ یہ واقعہ تعلیم کے دور میں بھی معاشرے میں موجود جہالت اور اندھ وشواس کی کڑوی حقیقت بیان کرتا ہے۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ اکثر ذاتی رنجش یا جائیداد کے تنازعہ کو 'ڈائن' یا 'جادو ٹونہ' کا رنگ دے کر کمزور لوگوں، خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔