تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد سے ایک دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے جس نے انسانیت کو شرم سار کر دیا ہے۔در اصل میلاردیو پلی تھانہ علاقے میں ایک ماں نے اپنی 15 دن کی بچی کو پانی کی بالٹی میں ڈبو کر ہلاک کر دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ خاتون نے یہ خوفناک قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ وہ مالی بحران سے پریشان تھی۔یہ واقعہ آئی ڈی اے بندلا گوڈا علاقہ میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ماں کا تعلق تمل ناڈو سے ہے ، جو یہاں شاستری پورم کے علی نگر میں واقع ایک کمپنی میں کام کرتے تھے۔ انکا ایک بیٹا بھی ہے۔
معلومات کے مطابق انکے شوہر کے گردے فیل ہونے کی چھ ماہ قبل جانکاری ملی ۔ وہ پہلے ہی حاملہ تھی اور صرف 15 دن پہلے اس نے ایک بچی کو جنم دیا تھا۔ شوہر کی بیماری اور مالی مشکلات سے نبردآزما خاتون کو یہ فکر ستانے لگی کہ اگر اس کا شوہر مر گیا تو اس کا کیا ہوگا۔ اس نے یہ بھی سوچا کہ جب لڑکی بڑی ہو جائے گی تو وہ اکیلے اس کی شادی اور دیگر اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گی۔
منگل کو جب خاتون کا شوہر گھر پر نہیں تھا تو اس نے اپنی نوزائیدہ بچی کو پانی سے بھری بالٹی میں پھینک دیا۔ لڑکی کی موت کے بعد خاتون نے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے ڈرامہ رچایا اور بتایا کہ جب وہ نہانے گئی تو کچھ نامعلوم افراد نے اس کی بچی کو پانی کی بالٹی میں پھینک دیا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ گھر میں تلاشی لینے کے دوران اسے لڑکی کی لاش بالٹی میں ملی۔
پولیس کی تفتیش سے حقیقت آئی سامنے:
جب خاتون نے رونا شروع کیا تو اس کے شوہر نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کر دی۔ تاہم جائے وقوعہ پر موجود حالات خاتون کے بیان سے میل نہیں کھا رہے تھے جس کی وجہ سے پولیس کو اس پر شک ہوا۔سخت پوچھ گچھ کے بعد بالآخر خاتون نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ اس نے بتایا کہ مالی تنگی کے باعث اس نے اپنی بیٹی کو پانی میں ڈبو کر قتل کر دیا۔ پولیس نے جمعرات کو خاتون کو گرفتار کر کے ریمانڈ پر بھیج دیا۔