عام آدمی پارٹی (AAP) کے رہنما اور راجیہ سبھا ایم پی راگھو چڈھا نے ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹائے جانے پر پہلی بار کھل کر بات کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ایم پی نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے عام آدمی کی آواز بن کر پارلیمنٹ میں آئے اور مختلف مسائل اٹھائے، جن کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا تھا۔
راگھو چڈھا کا بیان:
راگھو چڈھا نے کہا:جب بھی مجھے پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع ملتا ہے، میں عوام کے مسائل اٹھاتا ہوں۔ اور شاید میں ایسے موضوعات اٹھاتا ہوں جو عام طور پر پارلیمنٹ میں نہیں اٹھائے جاتے۔ لیکن کیا عوام کے مسائل اٹھانا کوئی جرم ہے؟ کیا میں نے کوئی جرم کیا ہے؟ کیا میں نے کوئی غلطی کی ہے؟ کیا میں نے کچھ غلط کیا ہے؟
میں یہ سوال اس لیے پوچھ رہا ہوں کیونکہ عام آدمی پارٹی نے راجیہ سبھا سیکریٹریٹ سے کہا ہے کہ راگھو چڈھا کو پارلیمنٹ میں بولنے سے روکا جائے۔
انہوں نے کہا:جی ہاں، عام آدمی پارٹی نے پارلیمنٹ کو مطلع کیا ہے کہ راگھو چڈھا کو بولنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اب کوئی مجھے بولنے سے کیوں روکنا چاہتا ہے؟ جب بھی میں بولتا ہوں، میں ملک کے عام آدمی کی بات کرتا ہوں۔
ہوائی اڈوں پر مہنگے کھانے کا مسئلہ، زومیٹو اور بِلنکِٹ ڈیلیوری رائیڈرز کی مشکلات، کھانے میں ملاوٹ، ٹول پلازہ پر بینک چارجز کی لوٹ، مڈل کلاس پر ٹیکس کا بوجھ، کنٹینٹ کریئٹرز پر سٹرائیک، ٹیلی کام کمپنیوں کی 12 مہینوں میں 13 بار ری چارج کرانے کی لوٹ، ڈیٹا رول اوور کا مسئلہ، ری چارج کے بعد انکم بند ہونے کا مسئلہ میں نے یہ تمام مسائل پارلیمنٹ میں اٹھائے ہیں۔
کوئی میری آواز کیوں دبانا چاہتا ہے؟
راگھو چڈھا نے کہا:ان مسائل کو اٹھانے کے بعد ملک کے عام آدمی کو فائدہ ہوا۔ لیکن اس سے پارٹی کے ’عام آدمی‘ کو کیا فائدہ ہوا؟ کوئی مجھے بولنے سے کیوں روکنا چاہتا ہے؟ کوئی میری آواز کیوں دبانا چاہتا ہے؟
خیر، آپ لوگ مجھے لامحدود پیار دیتے ہیں۔ جب بھی میں آپ کے مسائل اٹھاتا ہوں، آپ میرا ساتھ دیتے ہیں، میری تعریف کرتے ہیں، مجھے حوصلہ دیتے ہیں۔
میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اسی طرح میرا ہاتھ تھامے رکھیے اور میرا ساتھ دیجیے۔ مجھے مت چھوڑیے۔ میں آپ کے ساتھ ہوں اور آپ کے لیے ہوں۔
اور جنہوں نے پارلیمنٹ میں بولنے کا میرا حق چھین لیا، میری آواز دبا دی، میں ان سے بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں: میری خاموشی کو میری ہار مت سمجھیے۔ میں وہ ندی ہوں جو وقت آنے پر سیلاب بن جاتی ہے۔