اپوزیشن پارٹیوں کےاتحاد( انڈیا بلاک )کے رہنماؤں نے آج دہلی میں میٹنگ کی۔ اپوزیشن پارٹیوں کےاتحاد نے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اجلاس منعقد کیا۔ انڈیا بلاک پارٹیوں کے رہنماؤں نے پانچ مسائل پر فیصلہ کیا۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے پیر کو قومی دارالحکومت دہلی میں اپوزیشن 'انڈیا' اتحاد کی میٹنگ ختم ہونے کے بعد میڈیا سے بات کی۔ اس میٹنگ میں تمام 25 اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے نیٹ اور سی بی ایس ای امتحان کے تنازعات کے تناظرمیں، 'انڈیا ' اتحاد کے رہنماؤں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اور ساتھ ہی مرکزی حکومت ملک کی موجودہ نازک معاشی صورتحال، بے روزگاری، مہنگائی اور کسانوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے فوری طور پر ایک آل پارٹی میٹنگ بلائے۔ اس موقع پر کھرگے نے اتحاد کی طرف سے لئے گئے پانچ اہم فیصلوں کا اعلان کیا۔
1.ووٹ چوری پر سی جے آئی کو خط لکھنے کا فیصلہ
انتخابی فہرست کا خصوصی جائزہ (ایس آئی آر ) کے عمل میں 'ووٹ دھاندلی' اور بے ضابطگیوں کے معاملات پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ خط جلد از جلد اس کے حوالے کر دیا جائے گا۔
2. وزیر تعلیم دھر میندر پردھان سے مانگا استعفیٰ
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے دور میں این ای ای ٹی اور سی بی ایس ای کے امتحانات میں بے ضابطگیاں ہوئیں، جس کی وجہ سے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل سڑک پر ہے۔ انہوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ وہ اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔
3. عوامی مسائل پر کل جماعتی اجلاس کی طلبی
انہوں نے کہا کہ ملک کے مخدوش معاشی حالات، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی، مظلوم طبقات پر حملوں اور کسانوں کے مسائل کے خلاف اتحاد کی جانب سے مسلسل جدوجہد جاری رکھے گا۔اور اس سلسلہ میں آل پارٹی میٹنگ طلب کرنے کی مانگ کی گئی۔
4. ہر دو مہینے میں میٹنگ،حیدرآباد میں اگلا اجلاس
انڈیا الائنس میں شراکت دار جماعتوں نے اب سے ہر دو ماہ بعد ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی کے تحت اتحاد کا اگلا اجلاس آئندہ اگست میں حیدرآباد میں منعقد ہوگا۔ اس کے لیے قطعی تاریخ جلد طے کی جائے گی۔
5. پارلیمنٹری آرڈینیشن جاری رہےگا
تمام اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں اتحاد کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کے دفتر میں ہر صبح جب پارلیمنٹ کا اجلاس ہو گا تو کوآرڈینیشن کمیٹی کی میٹنگ ہوگی۔
کن پارٹیوں نے اجلاس سے بنائے رکھی دوری؟
دہلی میں انڈیا بلاک کی میٹنگ میں دراوڑ منیترا کزہاگم (ڈی ایم کے) اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے شرکت نہیں کی ۔اے اے پی نے پہلے ہی عوامی طور پر اپنے آپ کو بلاک سے الگ کر لیا تھا، جبکہ ڈی ایم کے نے پہلے ہی اس میٹنگ کا بائیکاٹ کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا تھا جب کانگریس نے تمل ناڈو میں اس کے ساتھ تعلقات توڑ لیے تھے اور ٹی وی کے کی قیادت والی حکومت میں شامل ہو گئے تھے۔
کن لیڈروں نے اجلاس میں کی شرکت!
کانگریس کے راہل گاندھی اور ملکارجن کھرگے، ٹی ایم سی کی ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، آر جے ڈی کے تیجسوی یادو اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے ادھو ٹھاکرے سمیت اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ لیڈران کے علاوہ بائیں بازو کے لیڈران اور چھوٹی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والوں نے کانٹیو کلب میں اجلاس میں شرکت کی۔
2027 انڈیا بلاک کےلئے بڑا امتحان
انڈیا بلاک کے لیے سب سے بڑا امتحان اگلے سال اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات ہونے کا امکان ہے۔ اتر پردیش ہندوستان میں سیاسی طور پر سب سے اہم ریاست بنی ہوئی ہے اور اکثر کہا جاتا ہے کہ "دہلی میں اقتدار کا راستہ اترپردیش سے ہوکر جاتاہے"۔ اس طرح پیر کا اجلاس اتحاد اہم رہا۔ تاہم، یوپی میں، اپوزیشن کو بی جے پی کی طرف سے سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا، جو ریاست میں مسلسل تیسری مدت کے لیے کوشش کر رہی ہے۔دریں اثنا، 2027 میں پنجاب، اتراکھنڈ، منی پور، گوا، ہماچل پردیش اور گجرات میں اسمبلی انتخابات بھی ہوں گے۔ یہ تمام انتخابات انڈیا بلاک کے لیے اہم ہوں گے اور یقیناً 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بلاک کے اتحاد کا امتحان لیں گے۔