Friday, September 04, 2026 | 20 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • اسر و کا جی ایس ایل وی-ایف 17 مشن کامیاب، ای او ایس-05 نے خلا میں بھری اڑان

اسر و کا جی ایس ایل وی-ایف 17 مشن کامیاب، ای او ایس-05 نے خلا میں بھری اڑان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 04, 2026 IST

 اسر و کا جی ایس ایل وی-ایف 17 مشن کامیاب، ای او ایس-05 نے خلا میں بھری اڑان
بھارت کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی "ISRO "نے" GSLV-F17" راکٹ کے ذریعے" EOS-05" ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا۔ اس کامیابی کو بھارت کے خلائی پروگرام کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
 

سری ہری کوٹا سے راکٹ کی لانچنگ

"GSLV-F17" راکٹ نے سری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز سے تقریباً 2 بج کر 55 منٹ پر پرواز کی۔ لانچ کے وقت موسم خراب تھا اور بارش بھی ہو رہی تھی، لیکن راکٹ نے کامیابی سے اڑان بھری۔ "GSLV-F17 "کی اونچائی تقریباً 51.7 میٹر اور وزن 420 ٹن بتایا گیا ہے۔
 

'EOS-05 'سیٹلائٹ کیا کام کرے گا؟

"EOS-05" زمین کا مشاہدہ کرنے والا سیٹلائٹ ہے۔ اسے "Geosynchronous " مدار میں رکھا گیا ہے، جہاں سے یہ زمین کے ایک ہی علاقے پر مسلسل نظر رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سیٹلائٹ سے زمین پر ہونے والی تبدیلیوں کو باقاعدگی سے دیکھا جا سکے گا۔ اس سے سائنس دانوں اور ہنگامی حالات میں کام کرنے والے اداروں کو بدلتی ہوئی صورتحال سمجھنے میں مدد ملے گی۔ سیٹلائٹ میں جدید کیمرے اور سینسرز موجود ہیں، جو مختلف قسم کی روشنی اور شعاعوں میں زمین کی تصاویر حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کی مدد سے فصلوں، جنگلات اور قدرتی آفات کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔
 

قدرتی آفات میں مددگار

"EOS-05" کا ایک اہم استعمال قدرتی آفات کی نگرانی میں ہو سکتا ہے۔ مانسون، سیلاب یا لینڈ سلائیڈنگ جیسی صورتحال میں زمین پر ہونے والی تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی سے حکام کو حالات سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس معلومات کی بنیاد پر انخلا اور ریسکیو سے متعلق فیصلے لینے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

 

زراعت کے لیے بھی اہم

سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات زراعت میں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ فصلوں، آبپاشی اور پانی کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنے سے بہتر منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے۔
 

ماحول اور شہروں کی نگرانی

"EOS-05" جنگلات، شہروں کے پھیلاؤ اور زمین کے استعمال میں ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی میں بھی مدد کر سکتا ہے۔ اس طرح کی معلومات پالیسی بنانے، شہری منصوبہ بندی اور ماحول کے تحفظ کے لیے کارآمد ہو سکتی ہیں۔
 

'GSLV-F17' کی اہمیت

"GSLV-F17" ایک بڑا راکٹ ہے جس کا مقصد بڑے اور زیادہ پیچیدہ سیٹلائٹس کو اونچے مدار میں پہنچانا ہے۔ ایسے مشن کامیاب ہونے سے 'ISRO' کی بڑی اور مشکل خلائی مہمات انجام دینے کی صلاحیت اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر "GSLV-F17" اور "EOS-05" مشن کو بھارت کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے خلا میں موجود ٹیکنالوجی کو زراعت، قدرتی آفات، ماحول اور بنیادی منصوبہ بندی جیسے عملی کاموں کے لیے استعمال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
 
 

مشن کے بعد' ISRO'  چیف کی اہم اپ ڈیٹ

"GSLV-F17 "مشن کی کامیابی کے بعد' ISRO' کے سربراہ وی نارائنن نے بتایا کہ "EOS-05" کو کامیابی سے مطلوبہ مدار میں پہنچا دیا گیا ہے اور سیٹلائٹ مکمل طور پر فعال ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سیٹلائٹ کی متوقع مدتِ کار کم از کم 7 سال ہے، امید ہے کہ یہ تقریباً 9 سال تک کام کر سکے گا۔ وی نارائنن کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ بھارت نے زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیٹلائٹ کو 'Geosynchronous' مدار میں رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشن بھارت اور اس کے قریبی علاقوں کی نگرانی کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ "EOS-05" کو "GSLV" راکٹ کے ذریعے اب تک لے جائے گئے سب سے بھاری سیٹلائٹس میں شمار کیا گیا ہے۔
 

اس مالی سال میں مزید 6 لانچوں کا ہدف

" GSLV-F17" مشن کی کامیابی کے بعد 'ISRO' کے سربراہ وی نارائنن نے بتایا کہ 'ISRO' نے موجودہ مالی سال میں مزید 6 خلائی مشنز لانچ کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ GSLV-F17 اس مالی سال کا دوسرا کامیاب مشن ہے اور'ISRO' آئندہ مہینوں میں مزید لانچوں کی تیاری کر رہا ہے۔

 گگن یان مشن پر بھی تیزی سے کام جاری

' ISRO' چیف نے بتایا کہ گگن یان مشن کے پہلے والے مشن پر بھی تیزی سے اور منظم انداز میں کام جاری ہے۔ ان کے مطابق اب تک تقریباً 8 ہزار ٹیسٹ مکمل کیے جا چکے ہیں۔ گگن یان میں انسانی جانوں کی حفاظت سب سے اہم ہے، اسی لیے عملے کو خلا میں بھیجنے سے پہلے تین بغیر عملے والے مشنز کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ  ISRO موجودہ مالی سال کے دوران مزید 6 خلائی لانچیں کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔