بھارت کی وزارت خارجہ (MEA) نے بحیرہ اسود کے علاقے میں کام کرنے والے یا وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر تعینات بھارتی شہریوں کے لیے سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ وزارت نے جاری تنازع کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو دیکھتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ ایڈوائزری اس وقت جاری کی گئی جب ایک تجارتی جہاز پر حملے کے دوران پانچ بھارتی شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی۔ یہ واقعہ مبینہ طور پر اس وقت پیش آیا جب جہاز بحیرہ اسود میں روسی سمندری حدود سے گزر رہا تھا۔
بحیرہ اسود کی صورتحال انتہائی غیر مستحکم
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بحیرہ اسود اور اس سے ملحقہ سمندری علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال موجودہ تنازع کی وجہ سے انتہائی غیر یقینی ہے۔
ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ ان علاقوں میں کام کرنے والے تجارتی جہازوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سمیت کئی خطرات کا سامنا ہے۔ وزارت کے مطابق اپریل 2026 سے ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں بھارتی شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں۔
بھارتی شہریوں کو احتیاط کا مشورہ
وزارت خارجہ نے ان بھارتی شہریوں کو مشورہ دیا ہے جو بحیرہ اسود کے متاثرہ علاقے میں جہازوں پر ملازمت کرنے کا ارادہ رکھتے ہے - وہ کسی بھی ملازمت کو قبول کرنے سے پہلے وہاں موجود سیکیورٹی خطرات کا اچھی طرح جائزہ لیں۔ جو شہری اس علاقے میں کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، انہیں انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
شہریوں کے لیے اہم ہدایات
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جہاز پر کام کرنے والے افراد: بھرتی کرنے والی ایجنسی اور جہاز کے آپریٹرز سے جہاز کے راستے، بندرگاہوں، حفاظتی انتظامات، انشورنس اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار کی مکمل معلومات حاصل کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملازمت کی شرائط بین الاقوامی بحری اصولوں کے مطابق ہوں اور ہنگامی حالات میں طبی سہولت،وطن واپسی اور معاوضے کا مناسب انتظام موجود ہو۔ اپنے خاندان کے افراد کو سفر کی معلومات سے آگاہ رکھیں اور ان سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن، بھارتی حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
تنازع والے علاقے میں بڑھتے خطرات
بھارتی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ بحیرہ اسود کے علاقے میں جاری کشیدگی کے باعث وہاں کام کرنے والے افراد کو اضافی احتیاط کی ضرورت ہے اور انہیں کسی بھی فیصلے سے پہلے حفاظتی صورتحال کو مدنظر رکھنا چاہیے۔