پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس ہفتہ کے روز مختصر کاروائی کے بعد غیر معینہ مدت (سائن ڈائی) کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس کے آغاز کے فوراً بعد ہی راجیہ سبھا اور لوک سبھا کی کاروائیاں ختم کر دی گئیں۔
اس سے ایک دن قبل لوک سبھا میں آئین (131ویں ترمیمی) بل 2026 کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ خواتین کو پارلیمنٹ میں 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے سے متعلق اس اہم بل کو دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہو سکی، جس کے بعد حکمراں این ڈی اے اور اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی۔
بل کے حق میں 278 ووٹ پڑے جبکہ 211 ارکان نے مخالفت کی، تاہم یہ آئینی تقاضے کے مطابق دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس بل میں پارلیمنٹ کی نشستوں میں اضافے کی تجویز بھی شامل تھی۔
بل کی ناکامی کے بعد مرکزی حکومت نے حد بندی (ڈیلیمیٹیشن) سے متعلق دو دیگر بل پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ان تینوں تجاویز کو الگ الگ دیکھا جا سکتا ہے۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے کے کمرے میں ملاقات کی اور آئندہ حکمت عملی پر غور کیا۔
این ڈی اے نے الزام عائد کیا ہے کہ اپوزیشن نے خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک تاریخی کوشش کو جان بوجھ کر ناکام بنایا ہے، جبکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ خواتین ریزرویشن بل کو 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر پارلیمنٹ کی توسیع اور حد بندی کے عمل سے جوڑنا مناسب نہیں۔
ذرائع کے مطابق حکمراں اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ملک بھر میں اس معاملے پر عوامی مہم چلائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی خواتین ونگ "مہیلا مورچہ" کی قیادت میں ضلع سطح پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، پریس کانفرنسز اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو اس معاملے سے آگاہ کیا جائے گا۔
یہ معاملہ آئندہ انتخابات، خاص طور پر مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں، ایک اہم سیاسی موضوع کے طور پر بھی اٹھائے جانے کا امکان ہے۔