ٹی20 ورلڈ کپ کا شاندار آغاز ہو چکا ہے، لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے ہائی وولٹیج مقابلے پر شکوک و شبہات کے بادل اب بھی منڈلا رہے ہیں۔ سوال صرف ایک ہے کہ یہ میچ ہوگا یا نہیں؟ کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں صرف 6 دن بعد ہونے والے اس بڑے مقابلے پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے صورتحال واضح کرنے کے لیے دو رکنی وفد اتوار کو لاہور بھیجا تھا۔
آئی سی سی کے نائب صدر عمران خواجہ اور مبشر عثمانی نے مثبت نتیجے کی امید کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں فریق بات چیت کے لیے آمادہ نظر آ رہے ہیں۔ آئی سی سی کا وفد محسن نقوی کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے اور وزیر اعظم شہباز شریف سے بات چیت کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب رہا۔
محسن نقوی پاکستان کے وزیرِ داخلہ بھی ہیں۔ وہ پیر (9 فروری) کو وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے اور آئی سی سی کے وفد کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر آخری فیصلہ 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے۔ ہندوستان ٹائمز کو ایک ذریعے نے بتایا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مقابلے پر پی سی بی خود کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، یہ مکمل طور پر پاکستانی حکومت پر منحصر ہے۔ یعنی میچ کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف وزیر اعظم شہباز شریف طے کریں گے۔
بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کا اعلان
اس سے قبل، یکم فروری کو، پاکستان کی حکومت نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل، ایکس پر پوسٹ کیا، جس میں 15 فروری کو بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ نہ کھیلنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا گیا۔ پاکستانی وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا۔ اگر پی سی بی بھارت کے خلاف کھیلنا چاہتا ہے تو اسے حکومتی اجازت درکار ہوگی۔ اس لیے دیکھنا یہ ہے کہ نقوی اور شہباز شریف کی ملاقات میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔