امریکہ میں ایک ہندوستانی نژاد سابق ڈاکٹر کو اسپتال کے ریسٹ روم میں خفیہ کیمرہ لگا کر عملے کی ریکارڈنگ کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔عدالت نے ادویت دیشمکھ(Advait Deshmukh )کو چھ ماہ قید اور تین سال پروبیشن (نگرانی میں رہنے) کی سزا دی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے انہیں 15 سال تک جنسی مجرم کے طور پر مجرم ہونے، مخصوص علاج جاری رکھنے اور(Sexaholics Anonymous) جیسی میٹنگز میں شرکت کرنے کی ہدایت بھی دیا ہے۔
کیس کیا تھا؟
یہ معاملہ جون 2025 میں سامنے آیا، جب اوہائیو کے پرو میڈیکا ٹولیڈو اسپتال کے ایک ملازم کو ایک یونیسیکس ریسٹ روم میں چھپا ہوا موبائل فون ملا۔ جب ایک شخص نے اس فون کو چھپانے کی کوشش کی تو دیشمکھ نے فون لے لیا اور کہا کہ یہ ان کا ہے۔ بعد میں پولیس اور اسپتال انتظامیہ کی مشترکہ تحقیقات میں فون سے 80 سے زیادہ تصاویر ملیں، جو فروری سے مئی 2025 کے درمیان بنائی گئی تھی۔ تفتیش کے دوران پولیس نے چھ متاثرین کی شناخت کی، جن کی اجازت کے بغیر ان کی ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید متاثرین اور ریکارڈنگز بھی سامنے آ سکتی ہیں۔
ڈاکٹر کے خلاف کاروائی
عدالت نے دیشمکھ کو ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کے ایک معاملے اور خفیہ ریکارڈنگ (Voyeurism) کے سات الزامات میں قصوروار قرار دیا۔ جرم سامنے آنے کے بعد ٹولیڈو یونیورسٹی نے انہیں انتظامی چھٹی پر بھیج دیا اور بعد میں ان کی میڈیکل ٹریننگ جاری نہیں رکھی گئی۔اس وقت دیشمکھ یونیورسٹی آف ٹولیڈو میں میڈیکل کے تیسرے سال کےڈاکٹر تھے اور یورولوجی کے شعبے میں ٹریننگ حاصل کر رہے تھے۔
عدالت میں کیا ہوا؟
سزا سے پہلے دیشمکھ نے متاثرین سے معافی مانگی۔ ان کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں جیل کے بجائے صرف نگرانی میں رکھا جائے، کیونکہ انکا علاج جاری ہے ۔ عدالت نے جرم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے انہیں جیل اور دیگر سخت شرائط کی سزا سنائی۔