کل رات اترپردیش کے غازی آباد ایئرپورٹ سے ریلیف مواد کے ساتھ ایک خصوصی طیارہ میانمار کیلئے روانہ ہوا۔ مرکزی حکومت نے کہاہےکہ ہندوستان میانمار میں آئے خطرناک زلزلہ کے متاثرین کی ہرممکن مدد کیلئے تیار ہے۔ وزیراعظم مودی نے کل ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان مشکل کی اس گھڑی میں میانمار اور تھائی لینڈ کے لوگوں کے ساتھ کھڑاہے ۔ اس سلسلہ میں ہندوستان نے امدادی سامان روانہ کیاہے۔
ہندوستانی شہری بینکاک سے ہندوستان واپس :
اس دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کی طرف سے راحت اور بچاؤ کا سامان میانمار بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی طیارہ کمبل۔ ترپال۔ حفاظت صحت کی کٹس۔ سلیپنگ بیاگ۔ سولار لیمپ۔ فوڈ پیکٹ اور کچن سیٹ لیکر روانہ ہوچکاہے۔ اس طیارے میں ریسکیو اور میڈیکل ٹیم بھی روانہ ہوئی۔ جئے شنکر نے کہاکہ ہم مزید مدد فراہم کریں گے۔میانمار اور تھائی لینڈ میں آئے خطرناک زلزلوں کے بعد ہندوستانی شہری بینکاک سے ہندوستان واپس ہوئے۔ کولکتہ کے این ایس سی بی آئی ایئرپورٹ پر ان ہندوستانیوں کا استقبال کیاگیا۔
میانمار نے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی۔
میانمارنے امدادی کوششوں کے لیے بین الاقوامی مدد کی درخواست کی ہے اور اے ایچ اے سینٹر اور ہندوستان کی جانب سے تعاون کی کچھ پیشکشیں بھی قبول کی ہیں،میانمار کے فوجی جنتا رہنما جنرل من آنگ ہلینگ نے سرکاری نشریاتی ادارے ایم آر ٹی وی پر ایک تقریر میں کہا ۔انہوں نے دوسرے ممالک سے بھی مدد کی اپیل کی اور کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔میجر جنرل زو من تون نے کہا کہ نیپیتاو، منڈالے اور ساگانگ کے ہسپتال بھرے ہوئے ہیں۔
زلزلے کے بعد مزید 14 جھٹکے محسوس کیے گئے ۔
ریاستہائے متحدہ کے جیولوجیکل سروے کے مطابق، جمعے کے 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد سے میانمار میں کم از کم 14 مزید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر کی شدت 5 سے کم تھی۔نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) کے مطابق، جمعہ کو رات 11:56 (مقامی وقت) پر میانمار میں ریکٹر اسکیل 4.2 کی شدت کا ایک اور زلزلہ آیا۔اسی دوران تباہ کن زلزلے کے 10 منٹ بعد 6.7 شدت کا ایک اور جھٹکا بھی آیا۔