امریکہ میں 9 فروری سے لاپتہ 22 سالہ بھارتی طالب علم ساکیت سری نواسیہ کی لاش برآمد ہو گئی ہے۔ سان فرانسسکو میں بھارتی قونصل خانہ نے اتوار کو اس کی تصدیق کی۔ ساکیت سری نواسیہ کرناٹک کے تمکورو ضلع کے رہنے والے تھے اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ انہیں آخری بار کیلیفورنیا کے ٹلڈن ریجنل پارک کے قریب ایک جھیل کے پاس دیکھا گیا تھا۔
بھارتی قونصل خانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر بتایا کہ مقامی پولیس نے ساکیت کی لاش برآمد ہونے کی تصدیق کی ہے۔ قونصل خانہ نے ان کے خاندان کے لیے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ اس مشکل وقت میں وہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ قونصل خانہ نے یہ بھی کہا کہ وہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور مرحوم کے جسد خاکی کو بھارت بھیجنے کے عمل میں ہر ممکن تعاون کریں گے۔ قونصلر افسران خاندان کے رابطے میں ہیں اور ضروری رسمی امور میں مدد کر رہے ہیں۔
خاندان نے مانگی تھی مدد:
ساکیت کے والد نے بتایا تھا کہ ان کے بیٹے سے آخری بار 9 فروری کو بات ہوئی تھی۔ بیٹے کے لاپتہ ہونے کے بعد خاندان نے اس کے دوستوں اور روم میٹس سے رابطہ کیا۔ جب کوئی معلومات نہ ملیں تو برکلے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں شکایت درج کرائی گئی۔ 13 فروری کو ساکیت کے ماں باپ نے کرناٹک حکومت سے بھی مدد طلب کی تھی۔ کرناٹک حکومت نے وزارت خارجہ سے مداخلت کر کے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔
ساکیت کی تعلیمی قابلیت
ساکیت یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں پروڈکٹ ڈیولپمنٹ پروگرام میں ماسٹر آف سائنس کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس سے قبل انہوں نے آئی آئی ٹی مدراس سے کیمیکل انجینئرنگ میں بی ٹیک کی ڈگری حاصل کی تھی۔یہ واقعہ بھارتی طلبہ اور ان کے خاندانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے، اور قونصل خانہ خاندان کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔