Tuesday, February 10, 2026 | 22, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • سید شاہ محمد نظامی کا انتقال: انسانیت کا ایک رہنما چراغ قوم سے رخصت

سید شاہ محمد نظامی کا انتقال: انسانیت کا ایک رہنما چراغ قوم سے رخصت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 09, 2026 IST

سید شاہ محمد نظامی کا انتقال: انسانیت کا ایک رہنما چراغ قوم سے رخصت
حضرت سید شاہ محمد نظامیؒ، سجادہ نشینِ درگاہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ (دہلی) کے وصال سے پورا ملک سوگوار ہے۔ ان کا انتقال صرف مسلم برادری ہی نہیں بلکہ بھارت کی مشترکہ تہذیبی وراثت، صوفی روایت اور صدیوں پر محیط گنگا–جمنی تہذیب کے لیے ایک گہرا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ حضرت نظامی صاحبؒ نے اپنی پوری زندگی محبت، صبر، خدمت اور انسانیت کی قدروں کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے کبھی نفرت یا تفرقے کی زبان نہیں بولی بلکہ ہمیشہ امن، شفقت اور ہر انسان کی برابری کا پیغام دیا۔ ان کی زندگی اس یقین کی زندہ مثال تھی کہ حقیقی روحانیت وہی ہے جو دلوں کو جوڑتی اور معاشرے کو شفا بخشتی ہے۔

روحانی بزرگ صدیوں میں ایک بار جنم لیتے ہیں:اندریش کمار

 راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے قومی عاملہ رکن اور مسلم راشٹریہ منچ کے سرپرست، اندریش کمار نے کہا کہ حضرت نظامی صاحبؒ کے وصال سے قوم نے اپنی مشترکہ اخلاقی و روحانی وراثت کا ایک مضبوط ستون کھو دیا ہے۔اندریش کمار نے کہا کہ اپنے طرزِ عمل اور تعلیمات کے ذریعے حضرت نظامی صاحبؒ نے یہ ثابت کیا کہ حقیقی ایمان کی روح معاشرے کو جوڑنے، نفرت کو رد کرنے اور انسانیت کی خدمت کے لیے خود کو وقف کرنے میں ہے۔ مذہب، ذات اور زبان کی تقسیم سے بالاتر ہو کر ان کی زندگی مسلسل انسانی وقار اور بقائے باہمی کا پیغام دیتی رہی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو سکون عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، خلفاء اور بے شمار عقیدت مندوں کو صبر و استقامت دے۔ انہوں نے کہا، “ایسے روحانی بزرگ صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں، اور ان کی جدائی ایسی خاموشی چھوڑ جاتی ہے جو نسلوں تک گونجتی رہتی ہے۔”

ایک خانقاہ جو بلا امتیاز سب کے لیے کھلی رہی

اندریش کمار نے مزید کہا کہ حضرت نظامی صاحبؒ کی خانقاہ محض ایک مذہبی مقام نہیں تھی بلکہ خدمت، ہم آہنگی اور انسانیت کا زندہ مرکز تھی۔ ہر مذہب، ہر برادری اور ہر نظریے سے تعلق رکھنے والے افراد کا وہاں یکساں محبت اور احترام سے استقبال کیا جاتا تھا۔ خانقاہ سے ہمیشہ محبت، مکالمے اور باہمی سمجھ بوجھ کا پیغام پھیلا، کبھی امتیاز یا تفریق نہیں۔ ان کے مطابق حضرت نظامی صاحبؒ کی رہنمائی ایک ایسے چراغ کی مانند تھی جو اندھیروں میں بھی معاشرے کو روشنی دکھاتا رہا۔ اس روشنی کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔

امن اور قومی یکجہتی کے حقیقی علمبردار:شاہد سعید

مسلم راشٹریہ منچ کے قومی کنوینر، شاہد سعید نے حضرت سید شاہ محمد نظامیؒ کو انسانیت، امن اور قومی یکجہتی کا سچا علمبردار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت نظامی صاحبؒ نے کبھی مذہب کے نام پر دیواریں نہیں کھڑی کیں بلکہ محبت، اعتماد اور بھائی چارے کے پُل تعمیر کیے۔ ان کا پیغام واضح اور غیر متزلزل تھا—کہ قوم اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب دل جڑے رہیں اور سماجی اعتماد محفوظ رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی پولرائزیشن اور تقسیم انگیز بیانیے کے اس دور میں حضرت نظامی صاحبؒ جیسے بزرگوں کی حکمت اور اخلاقی بصیرت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ وصال صرف روحانی نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی اور سماجی نقصان بھی ہے۔

 محبت اور صبرکی گونجتی ہوئی آواز: ڈاکٹر شالینی علی

سماجی کارکن اور سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر شالینی علی نے کہا کہ حضرت نظامی صاحبؒ محض ایک مذہبی شخصیت نہیں تھے بلکہ انسانیت کی ایک طاقتور اور مخلص آواز تھے۔ ان کے بقول محبت، صبر اور باہمی احترام کا ان کا پیغام آج کے کشیدہ اور منقسم سماجی ماحول میں مزید اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اگرچہ ان کے وصال سے ایک عہد کا خاتمہ ہوا ہے، مگر ان کے افکار اور اقدار معاشرے کی رہنمائی اور ترغیب دیتے رہیں گے۔

پیغام انسان سے آگے زندہ رہتا ہے:ڈاکٹر شاہد اختر

قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات (این سی ایم ای آئی) کے قائم مقام چیئرپرسن ڈاکٹر شاہد اختر نے کہا کہ حضرت نظامی صاحبؒ تصوف، یعنی صوفی فکر کی روحانی اساس، کی زندہ مثال تھے۔ انہوں نے کہا کہ عبادت کے ساتھ ساتھ حضرت نظامی صاحبؒ کی زندگی میں سماجی ذمہ داری کا گہرا شعور بھی نمایاں تھا۔ تعلیم، مکالمے اور خدمت پر ان کا زور انہیں عہدِ حاضر کے نمایاں ترین صوفی بزرگوں میں شامل کرتا ہے۔ ڈاکٹر اختر کے مطابق ان کا وصال ملک کے روحانی اور سماجی تانے بانے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

 دعائیہ اور تعزیتی اجتماعات کا سلسلہ

ملک بھر میں حضرت نظامی صاحبؒ کی یاد میں دعائیہ اور تعزیتی اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔ درگاہ نظام الدین اولیاءؒ پر ہر طبقے اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ فاتحہ خوانی کر رہے ہیں اور آخری عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ مختلف مذاہب اور برادریوں کے لوگوں کی موجودگی اس بات کی مضبوط گواہی ہے کہ ان کا پیغام کس قدر سرحدوں سے ماورا تھا۔حضرت سید شاہ محمد نظامیؒ کی زندگی بھارت کی مشترکہ تہذیب، امن اور اخوت کی ایک دائمی علامت رہے گی۔  اگرچہ وہ جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں رہے، مگر ان کی تعلیمات، اقدار اور راستہ آنے والی نسلوں کو ہم آہنگی، شفقت اور انسانی وقار کی جانب رہنمائی کرتا رہے گا۔

 جمعہ کی شام ہوا انتقال 

 واضح رہےکہ جمعہ کی شام ایک دردناک اور خوفناک حادثہ میں گیزر پھٹنے کے باعث لگنے والی آگ سے معروف درگاہی شخصیت سجادہ نشیں سید محمد نظامی جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کی اہلیہ شدید متاثر ہوئیں۔