نیشنل بک ٹرسٹ کے زیر اہتمام ورلڈ بک فیئر 2026 کے دوران اتوار کی شام پرگتی میدان، نئی دہلی میں واقع آتھرز کارنر پر "اسلام اور جدیدیت" کے موضوع پر ایک فکری و علمی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر معروف ترک نژاد مفکر مصطفیٰ اکیول کی شہرۂ آفاق کتاب Reopening Muslim Minds کے اردو ایڈیشن "مسلم اذہان کی تشکیل نو" کی باقاعدہ رونمائی بھی عمل میں آئی۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ ڈاکٹر جلس اختر نصیری نے کیا ہے جبکہ اسے خسرو فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے۔
یہ کتاب اسلام کی فکری تاریخ، عقل و استدلال کی روایت، آزادیٔ فکر اور جدید دنیا کے ساتھ مذہبی مکالمے جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ مصطفیٰ اکیول اس تصنیف میں مسلم فکری روایت کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں جو اجتہاد، تنوع فکر اور اختلاف رائے کو فروغ دیتے ہیں۔ کتاب میں مذہبی سخت گیری، فکری جمود، اظہار رائے کی آزادی اور جدید ریاست کے ساتھ مذہب کے تعلق جیسے مسائل پر سنجیدہ اور مدلل گفتگو کی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ کتاب عصر حاضر میں اسلام اور جدیدیت کے مباحث میں ایک اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔
اردو ایڈیشن کی اشاعت کا مقصد برصغیر اور دیگر اردو داں حلقوں میں ان فکری مباحث کو عام کرنا ہے تاکہ طلبہ، محققین اور عام قارئین جدید فکری سوالات کو براہ راست سمجھ سکیں اور علمی مکالمے میں شریک ہو سکیں۔
تقریب کی نظامت خسرو فاؤنڈیشن کے کنوینر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن نے کی۔ مہمان خصوصی اور کلیدی خطبہ پروفیسر ڈاکٹر افشار عالم، وائس چانسلر جامعہ ہمدرد نے پیش کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اسلام کے فکری ارتقا، علمی روایت کی وسعت اور جدید تقاضوں کے ساتھ بامعنی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تصانیف مسلم معاشروں میں تنقیدی سوچ اور فکری بیداری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
خسرو فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شانتنو مکھرجی نے استقبالیہ خطاب میں فاؤنڈیشن کی علمی سرگرمیوں، معیاری ترجمہ جاتی منصوبوں اور عالمی سطح کی فکری کتب کو اردو قارئین تک پہنچانے کے عزم پر روشنی ڈالی۔ اختتامی کلمات اور اظہار تشکر جناب سراج الدین قریشی نے ادا کیے۔
تقریب کے دوران اسلام اور جدیدیت کے مختلف پہلوؤں پر ایک پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا جس میں موجودہ دور کے فکری چیلنجز، مسلم معاشروں کو درپیش مسائل اور مستقبل کے امکانات پر سنجیدہ گفتگو کی گئی۔ مقررین نے مصطفیٰ اکیول کی کتاب میں پیش کیے گئے خیالات کو بنیاد بنا کر عقل، مکالمے اور فکری آزادی کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔
شام سات بجے منعقد ہونے والی اس نشست میں قارئین، محققین، اساتذہ اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے واضح ہوا کہ اسلام اور جدیدیت جیسے موضوعات اور اس کتاب کے اردو ایڈیشن کو علمی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔