Sunday, September 06, 2026 | 22 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران نے کیا امریکی جنگی جہازوں پر میزائل حملے کا دعویٰ

ایران نے کیا امریکی جنگی جہازوں پر میزائل حملے کا دعویٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 06, 2026 IST

ایران نے کیا امریکی جنگی جہازوں پر میزائل حملے کا دعویٰ
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کی ایرو اسپیس فورس نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک 'ڈسٹرائر' پر کئی بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور نے الزام لگایا کہ یہ دونوں امریکی جنگی جہاز ایرانی بحری جہازوں کو ہراساں کر رہے تھے اور ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی میں شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق، اسلامی انقلابی گارڈ کور نے کہا کہ امریکی بحریہ کے دونوں جہازوں کو ایرانی جہاز  کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور نے مزید دعویٰ کیا کہ میزائل حملے میں دونوں امریکی جنگی جہازوں کو نقصان پہنچا اورایک حملے کے خدشے کے باعث انہیں علاقے سے نکلنا پڑا۔
 
اس کے بعد اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا۔ ایران کے مطابق، یہ ٹینکر ایک غیر مجاز آبی راستے سے سفر کر رہے تھے اور ان کے ساتھ امریکہ سے منسلک تین دیگر بحری جہاز بھی نشانہ بنے۔
 
اسلامی انقلابی گارڈ کور نے کہا کہ یہ کاروائی تین ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ایرانی فورس نے آبنائے ہرمز کے اطراف موجود بحری جہازوں کو غیر مجاز آبی راستے استعمال نہ کرنے کی وارننگ بھی دی ہے۔ دوسری جانب، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی بحریہ کے جہازوں پر حملہ کیا تو امریکہ ایرانی آئل ٹینکروں کو تباہ اور ڈبو دے گا۔
 
ہیگستھ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں امریکی سینٹرل کمانڈ , کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کے حوالے سے یہ انتباہ جاری کیا۔ ان کے مطابق، اگر ایران امریکی بحری جہازوں پر حملہ کرتا ہے تو اسے اس کی اقتصادی قیمت بھی چکانی پڑے گی۔ 
 
یہ تازہ پیش رفت امریکی سینٹرل کمانڈ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس کے مطابق 5 ستمبر کو اسلامی انقلابی گارڈ کور نے علاقائی حدود میں گشت کرنے والے امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے تھے، جس کے بعد امریکی فورسز نے تین ایرانی خام تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔
 
امریکہ نے واضح کیا کہ اس کے دونوں جنگی جہاز ایرانی میزائل حملوں سے بچ گئے تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز اور ڈسٹرائر نے متعدد میزائل حملوں سے بچاؤ کیا اور کسی امریکی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔امریکہ نے تینوں ایرانی آئل ٹینکروں کی کاروائی کی تفصیل بھی دی۔ امریکی فوج کے مطابق دو آئل ٹینکرز کو مستقل طور پر ناکارہ بنایا گیا، جبکہ تیسرا، جو خالی تھا، تباہ کر دیا گیا۔امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ ٹینکرز ایران کے ایک خفیہ مالیاتی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ یہ نیٹ ورک اسلامی انقلابی گارڈ کور اور اس کے علاقائی اتحادی گروہوں کی مالی مدد کرتا تھا۔تین ایرانی آئل ٹینکروں میں سے ایک کو جزیرہ خارگ کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ جزیرہ خارگ ایران کا اہم تیل برآمد کرنے والا مرکز ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایک ٹینکر جزیرہ خارگ کے ساحل کے قریب اور دوسرا جاسک کے قریب ناکارہ بنایا گیا، جبکہ تیسرا خلیجِ عمان میں تباہ کیا گیا۔
 
یہ تازہ پیش رفت امریکی سینٹرل کمانڈ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے،جس میں پانچ ستمبر کو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے سمندری علاقے میں گشت کرنے والے امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے۔ اس کے بعد امریکی فورسز نے تین ایرانی خام تیل لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا۔