ایران نے ہندوستانی وزیر اعظم مودی کو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ ملک کے صدر پیزیشکیان نے خود اس سلسلے میں ایک خط لکھا۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مرکزی حکومت اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ بھارت اب تک اپنا یہ موقف رکھتا آیا ہے کہ ایران امریکہ کشیدگی کو امن اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
خامنہ ای کی تدفین کی تقاریب4 جولائی کو شروع ہوگی۔ خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد انہیں 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ تہران اور قم کے شہروں میں بھی خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ایران نے اعلان کیا کہ 86 سالہ خامنہ ای فروری میں امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
انہوں نے تقریباً 36 سال تک ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ایرانی حکام کا اندازہ ہے کہ جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے ایک وفد بھی اس تقریب میں شرکت کرے گا۔ شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ انہیں ایرانی صدر نے بھی دعوت دی ہے۔
ہندوستان ایران کو اپنےExtended neighbourhood (توسیعی پڑوس) کے حصے کے طور پر دیکھتا ہے، ایک ایسا ملک جس کے ساتھ اس کے تہذیبی تعلقات ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مغربی ایشیا میں 40 روزہ تنازعہ کے دوران ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ متعدد دور کی بات چیت کی ہے۔