Thursday, March 12, 2026 | 22 رمضان 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ہلاکتوں کا دعویٰ، آبنائے ہرمز پر سخت وارننگ

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ہلاکتوں کا دعویٰ، آبنائے ہرمز پر سخت وارننگ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Mar 11, 2026 IST

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ہلاکتوں کا دعویٰ، آبنائے ہرمز پر سخت وارننگ
اقوام متحدہ میں ایران  کے سفیر امیر سعید ایروانی  نے کہا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم ایک ہزار 332 ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ میں اپنے بیان کے دوران کہی۔
 
ایروانی کے مطابق ان حملوں میں 180 سے زیادہ بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 20 سے زیادہ اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق حملوں میں 13 صحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ کئی رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
 
دوسری جانب امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی بارودی سرنگیں بچھانے والے 16 جہاز تباہ کر دیئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی اس خدشے کے پیش نظر کی گئی کہ ایران اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔
 
ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں تک ایک لیٹر تیل بھی نہیں پہنچنے دے گا۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے اس مرحلے کو جنگ کا گیارہواں دن قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران امریکی حملوں میں اب تک پانچ ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
 
امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون  نے بتایا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک سات امریکی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
 
ادھر وائٹ ہاؤس  نے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کو سخت وارننگ دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے تیل یا سامان کی ترسیل کو روکنے کی کوشش کی تو اسے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
 
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری  نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر  نے واضح کر دیا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کو بند نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی بحریہ نے ابھی تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی آئل ٹینکر یا بحری جہاز کو اسکورٹ نہیں کیا، تاہم ضرورت پڑنے پر ایسی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ سمندری تجارت اور توانائی کی عالمی سپلائی کا تحفظ امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل یا سامان کی نقل و حرکت کو روکنے کی کوشش کی تو اسے اب تک ملنے والے جواب سے بیس گنا زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
 
اسی دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ انڈیا  نے پہلے روسی تیل خریدنا بند کر دیا تھا، تاہم ایران کی جانب سے پیدا ہونے والی ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر امریکہ نے بھارت کو عارضی طور پر سمندر کے راستے تیل حاصل کرنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اجازت عارضی نوعیت کی ہے اور بعد میں اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔