Saturday, April 11, 2026 | 22 شوال 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 11, 2026 IST

 اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات
جس لمحے کا ساری دنیا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی وہ بالآخرآ پہنچا۔ پاکستان کے دارلحکومت  اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں سفارتی مذاکرات مقررہ وقت سے پانچ گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئے کیونکہ دونوں ممالک نے بعض شرائط پر اصرار کیا

 مذاکرات کےلئے 5 گھنٹوں کی تاخیرکیوں؟

ایران اور امریکہ، جنہوں نے مشرق وسطیٰ میں دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، امن مذاکرات کر رہے ہیں۔ اسلامی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے نمائندوں نے سفارتی مذاکرات میں شرکت کی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے نمائندے ہفتے کے روز پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے لیکن انہیں سرکاری طور پر شروع ہونے میں پانچ گھنٹے لگے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خبر رساں ایجنسی نیوز نیشن ڈاٹ کام کو بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے۔

 ایرانی میڈیا کی تصدیق

ایرانی میڈیا نے پاکستانی وقت کے مطابق ہفتہ کی شام تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد، امریکی جانب سے ایرانی اثاثوں کی رہائی - اور اس سلسلے میں "مزید ماہرانہ اور تکنیکی بات چیت کی ضرورت" - آبنائے ہرمز پر بات چیت کے علاوہ مذاکرات کے اہم حصے ہیں۔

 لبنان میں جنگ بندی پرمکمل عمل درآمد نہیں

خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ "ایران کا خیال ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پر ابھی تک مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے اور امریکہ کا فرض ہے کہ وہ اسرائیل کو اس عزم پر قائم رکھے۔ ایرانی وفد پاکستانی ثالث کے ذریعے اور ڈسکشن روم میں بھی سنجیدگی سے اس مسئلے کی پیروی کر رہا ہے"۔

اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دینے پر کوئی ڈیل نہیں 

دریں اثنا ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے ہفتے کے روز خبردار کیا کہ اگر امریکہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے تو کوئی ڈیل نہیں ہو گی۔"اگر ہم 'اسرائیل فرسٹ' کے نمائندوں کا سامنا کرتے ہیں تو کوئی معاہدہ نہیں ہوگا؛ ہم لامحالہ اپنے دفاع کو پہلے سے بھی زیادہ بھرپور طریقے سے جاری رکھیں گے، اور دنیا کو زیادہ قیمتوں کا سامنا کرنا پڑے گا،" انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں لکھا، "اگر دوسری صورت میں دونوں فریقوں اور دنیا کے لیے فائدہ مند معاہدہ ممکن ہے"۔

 ایرانی وفد کی قیادت 

یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایک ایرانی وفد اور نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک امریکی وفد مشرق وسطیٰ میں مخاصمت کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے لیے پاکستان کے شہر اسلام آباد پہنچا۔

28 فروری سے خطہ میں کشیدگی 

28 فروری کو، اسرائیل اور امریکہ نے تہران اور کئی دوسرے ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے شروع کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، سینئر فوجی کمانڈروں اور عام شہریوں کو ہلاک کر دیا۔ ایران نے اس کے جواب میں مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی لہریں شروع کیں اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول سخت کر دیا۔

ایران اور امریکہ میں دو ہفتوں کی جگن بندی 

ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ سے نافذ العمل ہو گئی۔ اس کے باوجود اسرائیل نے کہا ہے کہ جنگ بندی لبنان میں تنازع کا احاطہ نہیں کرتی ہے، اور اس نے بدھ کے روز لبنان پر اپنا سب سے بڑا ایک روزہ حملہ کیا، جس میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک اور 1100 سے زیادہ زخمی ہوئے، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔جمعے کے روز قالیباف نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے آغاز سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے مسدود اثاثوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔اس سے قبل ہفتے کے روز تسنیم خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا تھا کہ واشنگٹن نے ایرانی اثاثوں کو غیر منجمد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور پاکستان میں موجود ایرانی وفد اس معاملے کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، متعدد میڈیا رپورٹس نے، ایک نامعلوم امریکی سینئر اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے، اس رپورٹ کی تردید کی۔

300 سے زائد شہری مارےگئے

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت سے بڑھ گئی ہے جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے تھے، جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت ہوئی تھی۔ ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دیا۔ اگرچہ دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ کے روز نافذ العمل ہو گئی لیکن اسرائیل نے لبنان پر زبردست حملہ کیا جس میں 300 سے زائد شہری مارے گئے۔ تسنیم خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکا نے مذاکرات شروع ہونے سے قبل ایرانی اثاثے چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ تاہم کئی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ ایک سینئر امریکی اہلکار نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے۔