• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • کیا امریکہ ایران پر شدید حملوں کی تیاری کر رہا ہے؟

کیا امریکہ ایران پر شدید حملوں کی تیاری کر رہا ہے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 05, 2026 IST

کیا امریکہ ایران پر شدید حملوں کی تیاری کر رہا ہے؟
امریکہ ایران پر حملے کے لیے اپنے جدید ترین ہتھیاروں کو تعینات کرنے جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے اپنے JASSM-ER (جائنٹ ایئر ٹو سرفیس سٹینڈ آف میزائل ، ایکسٹینڈیڈ رینج) کروز میزائلوں کا تقریباً پورا ذخیرہ مغربی ایشیا میں منتقل کر دیا ہے۔ان میزائلوں کو دنیا کے باقی حصوں سے ہٹا کر صرف مغربی ایشیا میں تعیناتی کے لیے لایا گیا ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام ایران جنگ میں فیصلہ کن موڑ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
 
 مارچ کے آخر میں حکم جاری ہوا:
 
بلومبرگ کے مطابق، مارچ کے آخری ہفتے میں ان میزائلوں کو بحرالکاہل کے علاقےمیں موجود  ذخیروں سے ہٹا کر مغربی ایشیا میں منتقل کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ دنیا بھر میں مختلف جگہوں پر تعینات ان میزائلوں کو امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ٹھکانوں اور برطانیہ کے فیئر فارڈ میں بھیجا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق، توسیعی رینج والے ورژن کے ساتھ ساتھ تقریباً دو تہائی کم رینج والے میزائل بھی ایران میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
 
 امریکہ ہتھیاروں کی کمی سے دوچار : رپورٹ
 
رپورٹ کے مطابق، جنگ کے پہلے 4 ہفتوں میں ہی امریکہ نے 1,000 سے زائد JASSM-ER میزائلوں کا استعمال کر چکا ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس قسم کی 2,300 میزائلیں تھیں۔ اب دنیا کے باقی حصوں کے لیے صرف 425 میزائلیں باقی بچی ہیں۔
 
ایران نے اردن میں امریکہ کا اربوں ڈالر کا انٹر سیپٹر تباہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد امریکہ نے جنوبی کوریا میں تعینات THAAD میزائل دفاعی نظام کے کچھ حصوں کو بھی مغربی ایشیا بھیج دیا ہے۔
 
 JASSM-ER میزائلوں کی خاصیت کیا ہے؟
 
JASSM-ER امریکہ کی سب سے مہلک میزائلوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی مارکی صلاحیت ہے، جو 965 کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے۔امریکہ دشمن کی سرحد میں داخل ہوئے بغیر محفوظ فاصلے سے حملہ کرنے کے لیے ان کا استعمال کرنا چاہ رہا ہے، کیونکہ ایران کی فضائی دفاعی نظام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں کے باوجود اب بھی مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔اس میزائل کی ایک یونٹ کی قیمت تقریباً 12.5 کروڑ روپے ہے۔
 
 ٹرمپ کے دعوؤں کے باوجود ایران نے امریکی طیارے مار گرائے:
 
ٹرمپ بھلے ہی دعویٰ کریں کہ ایران کی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے اور اب ایرانی آسمان پر امریکہ کی فضائی برتری ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ایران نے امریکہ کے جدید F-15E اور A-10 لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں اور 2 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر بھی نقصان زدہ ہوئے ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے اب تک ایران نے ایک درجن سے زیادہ MQ-9 ڈرون بھی مار گرائے ہیں۔