ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جمعہ کو ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جس کے بعد ایران نے فوری جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔رپورٹس کے مطابق اراک میں واقع شاہد خنداب ہیوی واٹر کامپلیکس اور یزد صوبے میں واقع پروڈکشن پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔اور نہ ہی کسی قسم کی آلودگی کا خطرہ ہے۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں ایران کی میزائل سازی کی صلاحیتوں اور جوہری پروگرام سے متعلق ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ان حملوں کا بدلہ لیا جائے گا۔ ایرانی فوج نے امریکا اور اسرائیل سے وابستہ کمپنیوں کے ملازمین کو اپنے کام کی جگہیں چھوڑنے کی تنبیہ بھی کی ہے۔
ایران کی انقلابی گارڈز نے مشرق وسطیٰ کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی فوج کے گرد موجود علاقوں سے دور رہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر یہ اقدام شہریوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ انقلابی گارڈز نے خبردار کیا کہ کسی بھی غیر ضروری قریبی موجودگی سے خطرہ بڑھ سکتا ہے اور امریکی فوجی تنصیبات کے قریب جانا محفوظ نہیں ہوگا۔ یہ وارننگ ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ہرمز کے تنگ راستے اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث علاقے میں فوجی و اقتصادی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
وزرائے اعلیٰ کے ساتھ پی ایم مودی کی میٹنگ:
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے خطرے کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک اہم ورچوئل میٹنگ کی۔میٹنگ کا مقصد واضح ہے کہ عالمی بحران کے باوجود بھارت میں تیل، گیس اور ضروری اشیاء کی سپلائی متاثر نہ ہو اور عوام کی روزمرہ ضروریات پر کوئی اثر نہ پڑے۔وزیر اعظم نے پہلے ہی عوام کو آگاہ کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ بحران بھارت کے لیے طویل مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ مرکز ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، لیکن ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی اصل ذمہ داری ریاستوں پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے وزرائے اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے ریاستوں میں انتظامات کریں تاکہ عام آدمی کی ضروری اشیاء پر کوئی اثر نہ پڑے اور یاد دلایا کہ جب ملک بحران میں ہوتا ہے، تو مرکز اور ریاستیں ایک خاندان کی طرح مل کر کام کریں۔