Saturday, February 07, 2026 | 19, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں کشمیر اسمبلی میں 1لاکھ 13 ہزار کروڑ کا بجٹ پیش

جموں کشمیر اسمبلی میں 1لاکھ 13 ہزار کروڑ کا بجٹ پیش

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 06, 2026 IST

جموں کشمیر اسمبلی میں 1لاکھ 13 ہزار کروڑ کا بجٹ پیش
 جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کے لیے 1,13,767 کروڑ روپے کا تاریخی بجٹ پیش کیا ۔ اس مالیاتی خاکے میں حکومت نے عوامی بہبود اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔
 
بجٹ کے اہم اعداد و شمار کے مطابق، 80,640 کروڑ روپے ریونیو اخراجات کے لیے جبکہ 33,127 کروڑ روپے ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ آمدنی کے ذرائع میں مرکز کی جانب سے 42,752 کروڑ روپے کی مالی امداد اور 13,400 کروڑ روپے مرکزی اسکیموں   کے تحت حاصل ہوں گے، جبکہ ریاست اپنی کوششوں سے 31,800 کروڑ روپے کا ریونیو جمع کرے گی۔ 
 
 یہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا اہم بجٹ ہے کیونکہ طویل عرصے بعد منتخب وزیراعلیٰ نے بجٹ ایوان میں پیش کیا۔ عمر عبداللہ نے بجٹ کو ترقی کا روڈ میپ اور مالیاتی کمپاس قرار دیا۔بجٹ میں مرکزی امداد 43,290.29 کروڑ روپے تجویز کی گئی ہے۔ 
 
عوامی بہبود کے تحت مستحق خاندانوں کو 6 مفت گیس سلنڈر، AAY خاندانوں کے بچوں کے لیے فیس معافی، 6,000 یتیم بچوں کو 4,000 روپے ماہانہ امداد دینے کا اعلان کیا گیا۔ نوجوانوں کے لیے 'مشن یوا' کے تحت خود روزگار کے منصوبے شروع ہوں گے۔
 
350 کروڑ روپے سے 200 نئی الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے 1,431 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کشمیر میں AIIMS کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
 
اس کے علاوہ  خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کیلئے سال میں۔ چھے گیس سلنڈر مفت دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔ عارضی ملازمین کو طئے شدہ پلان کے تحت مرحلاوار طریقے سے مستقل کیا جائے گا اس کے علاوہ سال 2026 میں جموں کشمیر میں بین الاقوامی فلم فیسٹیول منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔
 
 

 

 اپوزیشن  پارٹیوں کا بجٹ پر رد عمل 

محبوبہ مفتی نے پرانے سری نگر کے لیے علیحدہ بجٹ کی تجویز دی، جبکہ کانگریس نے مرکزی امداد کو "سوتیلی ماں جیسا سلوک" قرار دیا اور انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل پر سوال اٹھایا۔ سنیل شرما نے ملازمتوں کے وعدے پورے نہ ہونے اور حکومتی شفافیت پر تنقید کی۔پی ڈی پی ایم ایل اے وحید پارا اور ایم ایل اے ہندوارہ سجاد غنی لون نے کہا  یہ بجٹ عوامی اُمیدوں کے برعکس تھا۔ وحید نے جہاں بے روزگاری کی بات کی وہی سجاد لون نے کہا کہ اس میں مرکزی اسکیموں کی تعریفوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ 

بجٹ عوام دشمن اور ناکام:بی جےپی

  اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے آج وزیرِ اعلیٰ کی طرف سے پیش کیا گیا  سالانہ  بجٹ کو عوام دشمن اور ناکام بجٹ قرار دیا۔ جموں میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، شرما نے کہا کہ عارضی ملازمین کے ساتھ ایک بار پھر دھوکا ہوا ہے ۔ اُنھوں نے کہا کہ بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے اس بجٹ میں کوئی روڈ میپ نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں جن ترقیاتی کاموں کی تعریف کی گئی وہ مرکزی سرکار کی اسکیمیں ہیں۔