Saturday, February 07, 2026 | 19, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • جمعیۃ علماء ہند نےاُدھم پورسیلاب متاثرین کوکئے نئے تعمیر شدہ 15مکانات حوالے

جمعیۃ علماء ہند نےاُدھم پورسیلاب متاثرین کوکئے نئے تعمیر شدہ 15مکانات حوالے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 06, 2026 IST

جمعیۃ علماء ہند نےاُدھم پورسیلاب متاثرین کوکئے نئے تعمیر شدہ 15مکانات حوالے
جمعیۃ علماء ہند نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کے ایک اہم مرحلے میں جموں و کشمیر کے ضلع اُدھم پور میں 15 نئے تعمیر شدہ مکانات متاثرین کے حوالے کیے۔ آج پہلے مرحلے میں ان مکانات کی چابیاں تقسیم کی گئیں، جن میں سات بیوہ خواتین بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کیا۔
 
مولانا ارشد مدنی نے سیلاب سے پنجاب، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں ہونے والی تباہی پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب مالکِ کائنات کے بندے ہیں اور اس کے ہر فیصلے پر سرِ تسلیم خم کرنا ہماری بندگی کا تقاضا ہے۔ تاہم، اسباب کے طور پر جمعیۃ علماء ہند، اس کے کارکنان اور شاخیں اپنی استطاعت کے مطابق متاثرین کی ہر ممکن مدد کر رہی ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قدرتی آفت مذہب یا ذات پوچھ کر نہیں آتی، مصیبت جب آتی ہے تو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اسی لیے جمعیۃ علماء ہند بلا تفریق مذہب و ملت ہر متاثرہ انسان کی مدد کر رہی ہے، کیونکہ انسانیت کی خدمت ہی اس کا نصب العین ہے۔
 
مکانات کی چابیاں حاصل کرنے والے متاثرین نے جذباتی انداز میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ آئے، دلاسہ دے کر چلے گئے، مگر عملی طور پر کام جمعیۃ علماء ہند نے کیا۔ بعض متاثرین اس قدر آبدیدہ ہو گئے کہ الفاظ میں اپنے جذبات بیان نہ کر سکے، تاہم آنسوؤں کے ساتھ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا مدنی کو صحت اور درازیٔ عمر عطا فرمائے۔
 
مولانا مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمہوریت ہم سب کا مشترکہ ورثہ ہے اور اس کا تحفظ ملک کے تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے اس ذمہ داری کو ادا نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایسے امید افزا واقعات بھی سامنے آئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ نفرت کی سیاست کے خلاف اب اکثریتی طبقہ بھی بیدار ہو رہا ہے۔
 
انہوں نے یقین دلایا کہ اگر مزید لوگ بے گھر ہیں تو جمعیۃ علماء ہند مسلمانوں کے ساتھ ساتھ برادرانِ وطن کے لیے بھی مکانات تعمیر کرانے کی کوشش کرے گی۔ اس کے علاوہ 148 ضرورت مند خاندانوں میں راشن کٹس اور گھریلو سامان بھی تقسیم کیا گیا، جن میں 30 غیر مسلم خاندان شامل ہیں۔
 
آخر میں مولانا مدنی نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ جمعیۃ علماء ہند دستورِ ہند اور سیکولرزم کے تحفظ کے لیے آخری دم تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو دینی و عصری تعلیم سے آراستہ کریں، کیونکہ موجودہ حالات کا مقابلہ صرف تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔