Tuesday, August 25, 2026 | 10 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • بجلی فیس میں اضافہ کو لے کر، جموں وکشمیر میں زبردست احتجاج۔عمرعبداللہ نے کہا اضافہ ناگزیر مجبوری

بجلی فیس میں اضافہ کو لے کر، جموں وکشمیر میں زبردست احتجاج۔عمرعبداللہ نے کہا اضافہ ناگزیر مجبوری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 24, 2026 IST

بجلی فیس میں اضافہ کو لے کر، جموں وکشمیر میں زبردست احتجاج۔عمرعبداللہ نے کہا اضافہ ناگزیر مجبوری
جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت اس فیصلے کا کوئی جشن نہیں منا رہی بلکہ یہ ایک ناگزیر مجبوری تھی۔ سرینگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ بجلی کے نرخ کبھی نہیں بڑھیں گیں۔ غریب ترین خاندانوں کے لیے 200 یونٹ مفت بجلی کے وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ یہ سہولت سولر پینلز کے ذریعے فراہم کی جائے گی، جس کا حالیہ ٹیرف اضافے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عمرعبداللہ نے بی جے پی کے دورِ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ اس دوران شرحوں میں 14 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا، جبکہ موجودہ اضافے کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کی خریداری میں ہونے والے نقصانات پر قابو پاتے ہی ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے گا۔

 پی ڈی پی کا احتجاج 

 پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے آج بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سرینگر کے صدر دفتر پر منعقد اس احتجاج کی قیادت پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری خورشید عالم نے کی، جس میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر منصف ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خورشید عالم نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اس نوعیت کا اضافہ جموں و کشمیر کے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔

 جموں و کشمیرعوام کو دھوکہ 

 بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے بجلی فیس میں اضافے کو غریب عوام کے پیٹ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ سری نگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ جموں و کشمیر کے عوام کو دھوکا دیتی آئی ہے۔

فیصلہ  فوری واپس  لینے کا کیا گیا مطالبہ

جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق حمید قرہ نے پیر کے روز بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کی مخالفت کی اور آرڈر کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے گزشتہ ہفتے یونین ٹیریٹری میں بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا۔قرہ  کی پارٹی نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد میں گزشتہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن جموں و کشمیر میں ریاست کی بحالی تک این سی کی قیادت والی حکومت سے باہر رہنے کا انتخاب کیا، اس فیصلے کو جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے "غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت" قرار دیا۔

پلوامہ ایم ایل اے کی حکومت پر تنقید 

ایم ایل اے پلوامہ وحید  الررحمان پرہ نے عمر عبداللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لداخ کے پاس اپنی قانون ساز اسمبلی بھی نہیں، لیکن وہاں کی قیادت نے دہلی کے ساتھ 16 دور کی بات چیت کے ذریعے اپنے مطالبات نئے اضلاع، آئینی تحفظات اور ریاستی حیثیت کو مرکز کے زیرِ غور لانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے برعکس، جموں و کشمیر میں منتخب اسمبلی ہونے کے باوجود عمر عبداللہ حکومت کے مؤثر کام کے لیے ضروری بزنس رولز بھی حاصل نہیں کر سکے۔

 حکومت کا فیصلہ عوام دشمن 

 جموں و کشمیر اپنی پارٹی کی جانب سے بجلی کے بلوں میں غیر معمولی اضافے کے خلاف سرینگر کے پریس انکلیو میں ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت کو عوام دشمن اقدامات پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے جب پریس انکلیو سے ایک احتجاجی مارچ نکالنے کی کوشش کی تو پولیس نے موقع پر پہنچ کر انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا اور مارچ کو ناکام بنا دیا۔

 یکم ستمبر سے بجلی شرحوں میں اضافہ 

واضح رہےکہ  جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (JERC) کی جانب سے 2026-27 کے لیے جموں پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (JPDCL) اور کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (KPDCL) کے لیے نظرثانی شدہ خوردہ بجلی کے ٹیرف کو منظوری دینے کے بعد جموں و کشمیر بھر میں بجلی کے صارفین کو یکم ستمبر سے زیادہ بجلی کے بلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
 
اوسط6.83فیصد کا اضافہ 
نظرثانی شدہ ٹیرف میں اوسطاً 6.83 فیصد اضافہ ہوتا ہے اور یہ 1 ستمبر 2026 سے 31 مارچ 2027 تک نافذ العمل رہے گا، جب تک کہ کمیشن کی طرف سے اس میں ترمیم یا توسیع نہ کی جائے۔
 
 
گھریلو صارفین کی نئی شرحیں 
میٹر والے گھریلو صارفین کے لیے، 200 یونٹس تک کی کھپت کے لیے2.45 فی یونٹ، 201-400 یونٹس کے لیے  4.20 فی یونٹ اور 400 یونٹ سے زیادہ کے لیے  4.60 فی یونٹ توانائی کا چارج مقرر کیا گیا ہے۔ 10روپئے فی کلو واٹ فی مہینہ مقررہ چارج بھی لاگو ہوں گے۔
 
 بی پی ایل اور زرعی صارفین 
کمیشن نے بی پی ایل گھرانوں اور چھوٹے زرعی صارفین کے لیے رعایتی شرحیں برقرار رکھی ہیں۔ ماہانہ 30 یونٹس تک استعمال کرنے والے اہل بی پی ایل صارفین 1.40 روپئےفی یونٹ کے ساتھ  5 فی کلو واٹ فی مہینہ کے مقررہ چارج کے ساتھ ادا کریں گے، جبکہ 20 HP تک کے زرعی کنکشنز پر 1.05 روپئےفی یونٹ اور 23 روپے فی HP فی ماہ ایک مقررہ چارج کے طور پر وصول کیے جائیں گے۔
 
 کمرشل صارفین کی شرحیں
کمرشل صارفین نظر ثانی شدہ شرحیں بھی  سامنے آئی ہیں، سنگل فیز کے غیر گھریلو صارفین 200 یونٹس تک 3.75 روپئے فی یونٹ اور اس کے بعد 5.70 روپئےفی یونٹ ادا کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ 75 روپئےفی کلو واٹ ماہانہ مقررہ چارجز بھی ہوں گے۔
 
نظرثانی شدہ ٹیرف کے تحت آمدنی
JERC نے 2026-27 کے لیے JPDCL اور KPDCL کے لیے  10,275.72 کروڑ روپئے کی مشترکہ سالانہ آمدنی کی ضرورت کو منظوری دی ہے۔ نظرثانی شدہ ٹیرف کے تحت آمدنی کا تخمینہ 7,854.94 کروڑ ہے، جس سے 2,420.78 کروڑ کا فرق سرکاری سبسڈی اور گرانٹس کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔
 
کمیشن نے کہا کہ صرف محصولات کے ذریعے محصولات کے پورے فرق کی وصولی کے لیے تقریباً 40 فیصد کا اضافہ درکار ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی تعاون نے اضافے کو محدود کرنے میں مدد کی۔نظرثانی شدہ ٹیرف آرڈر میں صنعتی صارفین، ای وی چارجنگ اسٹیشنز، سرکاری محکمے، ریلوے ٹریکشن، بلک سپلائی اور عارضی کنکشن بھی شامل ہیں۔ گرین پاور ٹیرف کو لاگو ٹیرف سے زیادہ اور اس سے زیادہ ₹0.50 فی کلو واٹ پر برقرار رکھا گیا ہے۔JERC نے 2026-27 سے 2028-29 کی مدت کے لیے JPDCL اور KPDCL کے لیے بزنس پلان اور ملٹی ایئر ٹیرف فریم ورک کی بھی منظوری دی ہے۔