Saturday, August 30, 2025 | 07, 1447 ربيع الأول
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں و کشمیر :ریاسی میں مٹی کا تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد کی موت ،رامبن میں 3ہلاک،کئی افراد لا پتہ،ریسکیو آپریشن جاری

جموں و کشمیر :ریاسی میں مٹی کا تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد کی موت ،رامبن میں 3ہلاک،کئی افراد لا پتہ،ریسکیو آپریشن جاری

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Mia | Last Updated: Aug 30, 2025 IST     

image
جموں و کشمیر میں دو مقامات پر بادل پھٹنے کے واقعات ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے کل 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ضلع ریاسی کے ایک دور افتادہ گاؤں میں مکان گرنے سے ایک ہی خاندان کے سات افراد جاں بحق ہو گئے۔ وہیں رامبن ضلع کی راج گڑھ تحصیل میں دیر رات بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ اس کی وجہ سے کم از کم تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 5 افراد لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔مقامی حکام نے بتایا کہ راج گڑھ، رامبن کے گڈگرام میں بادل پھٹنے کی واردات ہوئی ہے۔ تین لاشیں نکال لی گئی ہیں، لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ مقامی حکام کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی ہے۔
 
ریاسی میں بادل پھٹنے سے 7 افراد ہلاک:
 
دوسری جانب ریاسی ضلع کے مہور علاقے میں ابر آلود آسمان نے تباہی مچا دی ہے۔ مہور علاقے کے بدر گاؤں میں کل رات بادل پھٹنے سے 7 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ مہور علاقے کے ایم ایل اے محمد خورشید نے بتایا کہ رات کو گھر والے وہاں سو رہے تھے۔ سارا ملبہ ان کے گھر پر گرا اور وہ اس کے نیچے دب گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی لوگوں نے ریسکیو کیا اور تمام لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ یہ ایک غریب خاندان تھا۔
 
ان اضلاع میں بادل چھٹ گئے:
 
جموں و کشمیر میں حالیہ بادل پھٹنے کے واقعات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ کشتواڑ، کٹھوعہ اور ڈوڈہ اضلاع میں بادل پھٹنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کے کئی اضلاع میں مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ سیلابی صورتحال بھی برقرار ہے۔
 
کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے تقریباً 60 لوگوں کی موت ہو گئی:
 
جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے کے حالیہ واقعات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ کشتواڑ ضلع کے چوسیٹی گاؤں میں مچیل ماتا یاترا کے راستے پر بادل پھٹنے سے خوفناک صورتحال پیدا ہوگئی۔ یہ حادثہ 15 اگست کو پیش آیا۔ اس حادثے میں تقریباً 60 افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں سی آئی ایس ایف کے دو جوان اور کئی یاتری شامل ہیں۔ تقریباً 50 سے 220 افراد لاپتہ ہیں، اور 100 سے زیادہ زخمی ہیں۔