• News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • ہیلمٹ پرفلسطینی پرچم لگانا کرکٹرکوپڑا مہنگا۔ جموں وکشمیرکےفرقان بھٹ کو پولیس نے کیا طلب

ہیلمٹ پرفلسطینی پرچم لگانا کرکٹرکوپڑا مہنگا۔ جموں وکشمیرکےفرقان بھٹ کو پولیس نے کیا طلب

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 01, 2026 IST

  ہیلمٹ پرفلسطینی پرچم لگانا کرکٹرکوپڑا مہنگا۔ جموں وکشمیرکےفرقان بھٹ کو پولیس نے کیا طلب
جموں وکشمیرمیں کرکٹ لیگ میچ کے دوران فلسطینی پرچم کا استعمال کرنے پر ایک کرکٹر تنازع میں پھنس گیا ہے۔ جموں کشمیر چیمپئنز لیگ میں فرقان بھٹ نامی کرکٹر نے اپنے ہیلمٹ پر فلسطینی پرچم لگایا۔ فرقان کے ہیلمٹ پر فلسطینی جھنڈا لگانےسے ٹورنامنٹ میں افراتفری مچ گئی۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد جموں و کشمیر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ فرقان بھٹ جموں کشمیر چیمپئنز لیگ میں جے کے 11 ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں۔دریں اثنا، اس لیگ میچ میں جے کے 11 کی ٹیم نے جموں ٹریل بلیزرز کو 8 رنز سے شکست دی۔

فرقان بھٹ پر پابندی!

 اسی دوران  کرکٹر فرقان بھٹ پر جے سی ایل میں کھیلنے پر پابندی عائد کرنے کی اطلاعات ہیں۔ یہ میچ جموں کے کے سی اسپورٹس کلب میں منعقد ہوا تھا۔ پولیس فی الحال معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ میچ کے دوران ایسی علامت کے استعمال کے پیچھے کیا مقصد ہے اور آیا منتظمین سے اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔

 منتظم سے بھی پوچھ تاچھ 

اس دوران جموں وکشمیر پولیس چیمپئنز لیگ کے منتظم زاہد بھٹ سے بھی پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں یہ واضح کرنا چاہتی ہیں کہ کیا لیگ کے دوران قواعد و ضوابط پرعمل کیا گیا تھا، اور کیا اس طرح کی سرگرمیاں امن و امان کی صورتحال کا باعث بن سکتی تھیں۔ پولیس ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے۔

کون ہیں فرقان بھٹ 

جموں اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان کرکٹر فرقان بھٹ ایک مقامی کرکٹر ہیں جو جموں اور کشمیر چیمپئنز لیگ میں کھیلتے ہیں۔ یہ لیگ وادی کشمیر میں کرکٹ کے جوش و خروش کو فروغ دینے کے لیے ایک مقامی ٹورنامنٹ ہے، جہاں نوجوان ٹیلنٹ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ فرقان ان نوجوان کشمیریوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود کرکٹ کو اپنا جنون پایا۔ وادی میں کرکٹ ہمیشہ سے مقبول رہی ہے۔ پرویز رسول اور عمران ملک جیسے کھلاڑی یہاں سے ابھر کر قومی سطح پر چمکے ہیں۔ فرقان جیسے مقامی کھلاڑی بھی یہی خواب سجوئے ہوئے میدان میں اترتے ہیں۔ تاہم اس تنازع کے بعد فرقان کے کیرئیر پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

 فلسطین کی حمایت میں دینا بھرمیں مظاہرے

  فلسطین پر اسرائیل کے حملوں پر دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں، فلسطینیوں کے ریاست کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مہینوں بعد،غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے والے مسلح گروپ۔مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے کیونکہ غزہ شدید غذائی عدم تحفظ اور جان بچانے والی ادویات کی قلت کو دیکھ رہا ہے۔

غزہ میں 37 امدادی گروپوں پر پابندی

اسرائیل کی جانب سےغزہ میں 37 امدادی گروپوں پر پابندی عائد کرنے کی منصوبہ بندی سے صورتحال مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے، کئی انسانی ایجنسیوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے ایسے اقدامات کو منسوخ کرنے کی کوشش پر زور دیا ہے۔ این جی اوز نے روشنی ڈالی کہ اس طرح کی پابندی غزہ جنگ بندی کے دوران حاصل ہونے والی نازک پیش رفت کو نقصان پہنچائے گی۔

 بھارت دو ریاستی حل کا حامی 

اپنی دیرینہ خارجہ پالیسی کے مطابق، ہندوستان اسرائیل-فلسطین مسئلہ کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے، جس کا مؤثر طریقے سے مطلب فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔