• News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں وکشمیر: شدید بارش کی وجہ سے اسکولوں کی تعطیلات میں 26 جولائی تک توسیع

جموں وکشمیر: شدید بارش کی وجہ سے اسکولوں کی تعطیلات میں 26 جولائی تک توسیع

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 21, 2026 IST

جموں وکشمیر: شدید بارش کی وجہ سے اسکولوں کی تعطیلات میں 26 جولائی تک توسیع
 
سیلاب کے متاثرین کے ساتھ حکومت ہے: ایل جی
اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کی جانچ ہو گی: عمرعبداللہ 
 ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کی کلید 
 جموں وکشمیرمیں نشہ مکت100دن کی اختتامی تقریب 
 
جموں و کشمیر حکومت نے موسم کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر منگل کو وادی میں اسکولوں کی تعطیلات 26 جولائی تک بڑھا دی ہیں۔اتوار سے جموں کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہونے والی شدید بارش کے پیش نظر موسم گرما کی تعطیلات بڑھا دی گئی ہیں۔

26جولائی تک گرمائی تعطیلات 

جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "طلباء، اساتذہ اور ان کے خاندانوں کی حفاظت اور بہبود کو ہماری اولین ترجیح کے طور پر رکھتے ہوئے، کشمیر ڈویژن اور جموں ڈویژن کے سرمائی علاقوں میں تمام سرکاری اور تسلیم شدہ نجی اسکولوں کے لیے موسم گرما کی تعطیلات 26 جولائی 2026 تک بڑھا دی گئی ہیں۔"

 ایل جی  نے کہا امدادی کاروائیاں جاری

 لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ جموں کے بارش سے متاثرہ اضلاع میں اعلیٰ سطح پر بچاؤ اور امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جن لوگوں کی جائدادوں کو نقصان پہنچا ہے، انہیں مکمل مالی امداد فراہم کی جائے گی اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشنز میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔ ایل جی نے مزید کہا کہ اس مشکل اور دکھ کی گھڑی میں مرکزی حکومت کی جانب سے بھی متاثرین کے لیے تمام ممکنہ تعاون اور امداد فراہم کی جا رہی ہے۔  

نشہ مکت100دن کی اختتامی تقریب 

سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں 100 روزہ 'نشہ مکت جموں کشمیر مہم' کی اختتامی تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے واضح کیا ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک یونین ٹیریٹری سے منشیات اور نارکو دہشت گردی کے پورے ایکو سسٹم کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، یہ مہم مزید شدت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔ ایل جی نے منشیات کے اسمگلروں اور پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس اور نفاذِ قانون کے اداروں کے سخت کردار کی تعریف کی ہے۔

بارس سے23افراد ہلاک

، "پونچھ اور راجوری میں شدید بارشوں کی وجہ سے بہت سی جانیں ضائع ہوئی ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ریسکیو اور ریلیف آپریشنز اعلیٰ سطح پر جاری ہیں۔ انتظامیہ، SDRF، NDRF، اور پولیس سبھی زمین پر سرگرم ہیں۔"پونچھ، راجوری اور ڈوڈہ اضلاع میں اتوار سے بارش سے متعلق واقعات میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور سات دیگر لاپتہ ہیں۔

 سیلاب سے مزید اموات نہ ہوں

 جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ ان کی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سیلاب سے متاثرہ پونچھ اور راجوری اضلاع میں مزید لوگوں کی موت نہ ہو۔عبداللہ نے کہا، "پونچھ-راجوری میں تباہی ہوئی ہے۔ کچھ جانیں ضائع ہوئی ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ پہلے جانیں بچائی جائیں۔ عبداللہ نے کہا۔ میں نے حکام کو واضح ہدایات دی ہیں کہ وہ غیر محفوظ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں،"

 جانی نقصان پرغم کا اظہار 

وزیر اعلیٰ نے پونچھ کے لوران کے نندیچول علاقے میں ڈومیل ڈھوک میں مٹی کے تودے گرنے سے سات جانوں کے ضیاع پر دکھ اور غم کا اظہار کیا۔

 اسمارٹ سٹی پروجیکٹ پر سوال اٹھائے

 ادھر  جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے  منگل کو کہا کہ سری نگر اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کی انکوائری کی جائے گی کیونکہ بارشوں کی وجہ سے یہاں کے سول سیکرٹریٹ سمیت کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا اور شہر کے نکاسی آب کے نظام کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کی جانچ ہو گی 

وزیرِ اعلیٰ عمرعبداللہ نے آج کہا کہ موسم بہتر ہوتے ہی حکومت اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت ڈرینج (نکاسیِ آب) کے کاموں کی تحقیقات کرائے گی، تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود شہرِ سرینگر ذرا سی بارش سے کیوں ڈوب جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزراء کی کونسل پہلے ہی اس منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔عبداللہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پیر کو سول سیکرٹریٹ کے گراؤنڈ فلور کا سیلاب ایک "شرمناک" تھا۔

 ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کی کلید 

 دہلی کے احتجاج پر حریفوں کو نشانہ بنایا
 جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ ریاست کی بحالی خطے کے آئینی حقوق کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ضروری بنیاد بنی ہوئی ہے، جب کہ  نیشنل کانفرنس  کے دہلی احتجاج کو چھوڑنے اور ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی بنانے کی کوشش کی تھی۔

جنتر منتر کا احتجاج صرف ایک شروعات ہے

 وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ نے واضح کیا ہے کہ نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاست کی بحالی کے لیے کیا گیا احتجاج محض ایک شروعات ہے، انجام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی مرکز کو اس کے وعدے یاد دلاتی رہے گی اور بی جے پی کو خوش کرنے کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ جموں و کشمیر اسمبلی سے خود مختاری کی بحالی کی منظور شدہ قرارداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکز اس اقدام سے ناخوش تھا اور اسی بنا پر کشمیر کی واحد آواز کو تقسیم اور کمزور کرنے کے لیے نئی سیاسی جماعتوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ عمرعبداللہ نے اس احتجاج سے دوری اختیار کرنے اور اس کا مذاق اڑانے والی علاقائی جماعتوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور آرٹیکل 370 و خصوصی درجے پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے اعادہ کیا کہ نیشنل کانفرنس نے اپنے بنیادی ایجنڈے کو کبھی خیرباد نہیں کہا ہے۔

گرتے ہیں شہوار ہی میدان جنگ میں

وہ طفل کیا گرے جو گھنٹوں کےبل چلے

عمرعبداللہ نے جموں و کشمیر میں اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے ابتدائی تبصرہ میں کہا۔"جیسا کہ کہا جاتا ہے، گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں، وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے ،" ۔

 بی جےپی نے احتجاج کو قراردیا سیاسی پکنک

قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے جموں میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیشنل کانفرنس کے احتجاج کو سیاسی پکنک قرار دیا اور کہا کہ عمر عبداللہ حکومت بجلی، پانی اور گورننس کے محاذ پر اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے ڈرامے بازی کر رہی ہے۔بی جے پی لیڈر نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینا مرکزی حکومت کا اپنا ایجنڈا ہے جو مناسب وقت پر بحال کیا جائے گا جبکہ انہوں نے اس احتجاج میں مبینہ طور پر ملک دشمن عناصر کو شامل کرنے کی کوششوں پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔۔