ماؤ نوازکاروائیوں میں سیکورٹی فورسز کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ پولیس کے مطابق، جھارکھنڈ میں ایک کروڑ روپے سے زائد کے انعامی ماؤنواز لیڈر مسیر بسرا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گرفتاری دھنباد ضلع میں کی گئی۔ پولیس نے اسے ماؤنواز تنظیم کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، کیونکہ مسیر بسرا تنظیم میں طویل عرصے سے اہم کردار ادا کر رہا تھا اور ملک کے مطلوبہ باغیوں میں شامل تھا۔
ماؤنواز تنظیم کو بڑا نقصان
پولیس کا کہنا ہے کہ مسیر بسرا کی گرفتاری سے خطے میں ماؤنواز سرگرمیوں کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔ سیکورٹی فورسز جھارکھنڈ اور آس پاس کی ریاستوں میں ماؤنواز تنظیم کے نیٹ ورک، قیادت اور آپریشنل صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل کاروائیاں کر رہی ہیں۔ حکام اب مسیر بسرا سے پوچھ تاچھ کے ذریعے تنظیم کے نیٹ ورک، قیادت کے ڈھانچے اور مستقبل کے منصوبوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
انل دا کے بعد ایک اور بڑی کامیابی
مسیر بسرا کی گرفتاری سے چند ماہ پہلے بھی جھارکھنڈ میں ماؤنوازوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کو بڑی کامیابی ملی تھی۔ جنوری 2026 میں سیکورٹی فورسز نے سرندا کے جنگلات میں ایک انکاؤنٹر کے دوران ماؤنواز کمانڈر انل دا عرف طوفان کا انکاؤنٹرکیا تھا، جس پر ایک کروڑ روپے کا انعام تھا۔ یہ کاروائی (CoBRA) بٹالین اور (CRPF) کی مشترکہ کاروائی تھی، جس میں 8 ماؤنواز مارے گئے تھے۔ اسی سال کو بڑی انسدادِ بغاوت کاروائیوں میں شمار کیا گیا تھا۔
انل دا کون تھا؟
انل دا کا اصل نام پتیرام مانجھی تھا۔ وہ پتیرام مرانڈی اور رمیش کے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کی سینٹرل کمیٹی کا رکن (CCM) تھا اور تنظیم کے اہم حکمت عملی بنانے والوں میں شامل سمجھا جاتا تھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق، وہ ماؤنواز کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کرتا تھا، اسی وجہ سے اس کی گرفتاری یا معلومات دینے پر ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔
16 ماؤنوازوں نے خودسپردگی کی
اس سے قبل 28 جولائی کو تقریباً 16 ماؤنوازوں نے رانچی میں جھارکھنڈ پولیس کے سامنے خودسپردگی کی۔ ان میں سے 6 ماؤنوازوں پر مجموعی طور پر 39 لاکھ روپے کا انعام تھا۔پولیس کے مطابق، خودسپردگی کرنے والوں میں سنتوش مہتو عرف باسودیو دا عرف دلیپ بھی شامل تھا، جو 128 مقدمات میں مطلوب تھا اور اس کے سر پر 15 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ہتھیار ڈالنے والوں میں: دو ذیلی زونل کمیٹی کے افراد ، دو علاقائی کمیٹی کے افراد بھی شامل تھے۔