کولکتہ کی مرزا غالب اسٹریٹ پر واقع ایک ہوٹل میں بدھ کی صبح خوفناک آگ لگنے سے کم از کم 9 افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد بنگلہ دیشی شہری تھے اور علاج کے لیے کولکتہ آئے ہوئے تھے۔
آگ رات 2 بجے کے بعد لگی
ابتدائی معلومات کے مطابق آگ مرزا غالب اسٹریٹ پر واقع چار منزلہ ہوٹل میں بدھ کی صبح تقریباً 2 بجے کے بعد لگی۔ آگ لگنے کے وقت ہوٹل میں کئی مہمان موجود تھے۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور عمارت میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالنے کی کاروائی شروع کردی۔
9 افراد کو اسپتال لے جایا گیا
ریسکیو ٹیموں نے صبح 3 بجے کے بعد 9 افراد کو ہوٹل سے نکال کر کولکتہ میڈیکل کالج اور اسپتال پہنچایا۔ ڈاکٹروں نے بعد میں ان تمام افراد کو مردہ قرار دے دیا۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد بنگلہ دیشی شہری تھے، جو علاج کی غرض سےکولکتہ آئے تھے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 9 ہلاک شدگان میں 6 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔
آگ لگنے کی وجہ ابھی معلوم نہیں
فائر فائٹرز نے تقریباً دو گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا۔ آگ کس وجہ سے لگی، اس بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ حکام یہ بھی جانچ کر رہے ہیں کہ ہوٹل میں آگ سے بچاؤ کے لیے ضروری انتظامات موجود تھے یا نہیں۔ اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ہوٹل نے فائر سیفٹی کے تمام اصولوں پر عمل کیا تھا یا نہیں۔
ہوٹل کی حفاظتی انتظامات پر مزید سوال اٹھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عمارت میں ہنگامی راستے اور جدید آگ بجھانے کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے
ایک دن پہلے بیر بھوم میں بھی ہوٹل میں آگ
کولکتہ کا یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع کے تاراپیٹھ علاقے میں ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے ایک روز پہلے ہی 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ آگ پیر کی صبح تقریباً 4 بجے چار منزلہ ہوٹل کی نچلی منزل پر لگی تھی۔ اس وقت زیادہ تر مہمان سو رہے تھے۔ آگ تیزی سے اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی اور عمارت میں دھواں بھر گیا، جس کی وجہ سے کئی مہمان اپنے کمروں میں پھنس گئے۔
تاراپیٹھ حادثے میں 9 افراد ہلاک
اس حادثے میں میگھالیہ کے ایک خاندان کے 5 افراد سمیت مجموعی طور پر 9 افراد ہلاک ہوئے۔ حکام کے مطابق حادثے کے وقت ہوٹل میں 43 افراد ٹھہرے ہوئے تھے۔ ان میں سے 34 افراد کو ابتدائی طبی امداد اور طبی معائنے کے بعد اسپتال سے جانے کی اجازت دے دی گئی، جبکہ ایک زخمی شخص علاج کے دوران دم توڑ گیا۔ پولیس نے ہوٹل کے مالک سمیت دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ہوٹل میں آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات موجود تھے یا نہیں۔
شارٹ سرکٹ کا شبہ، لیکن تصدیق نہیں ہوئی
ہوٹل انتظامیہ نے ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی تھی، لیکن تفتیش کاروں نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ حکام کے مطابق آگ استقبالیہ (Reception) کے قریب سے شروع ہونے کا امکان ہے۔ آگ پھیلنے کے ساتھ ہی ہوٹل کی بجلی بھی بند ہوگئی، جس کے باعث عمارت میں اندھیرا چھا گیا اور مہمانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر امدادی کاروائی شروع کی اور عمارت میں پھنسے افراد کو باہر نکالا۔ دھوئیں کی وجہ سے اوپری منزلوں پر موجود مہمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دونوں واقعات کی تحقیقات جاری
کولکتہ اور بیر بھوم میں پیش آنے والے دونوں واقعات کے بعد حکام نے ہوٹلوں میں فائر سیفٹی انتظامات کی جانچ شروع کردی ہے۔ کولکتہ کے ہوٹل میں آگ لگنے کی اصل وجہ اور ہوٹل میں موجود حفاظتی انتظامات سے متعلق مزید معلومات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔