تلنگانہ کانگریس حکومت کے پالی ٹیکنک کو ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی (YISU) کے ساتھ ضم کرنے کے فیصلے کے خلاف حیدرآباد سمیت ریاست کے مختلف مقامات پر بدھ کو بھی احتجاج کیا گیا۔تلنگانہ بھر کےپالی ٹیکنیک طلبا حیدرآباد اورسڑکوں پر نکل آئے۔ گورنمنٹ پالی ٹیکنک رامنتا پور کے طلباء نے کالج کے احاطے میں احتجاج کیا، جبکہ خواتین طالبات نے سکندرآباد کے سنگیت ایکس روڈس پر مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے پولی ٹیکنک کے طلباء کو مزدوروں میں کم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔
گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس سکندرآباد میں طلباء کی بڑی تعداد نے احتجاج بھی کیا۔ مظاہرین نے افسوس کا اظہار کیا کہ پولی ٹیکنک کو YISU کے ساتھ ضم کر کے، حکومت انہیں انڈرگریجویٹ انجینئرنگ کے مواقع سے محروم کر رہی ہے کیونکہ ECET کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اسی معاملے پر حیدر آباد کے راما نتاپور، میڑچل، سکندرآباد، محبوب آباد اور عادل آباد میں بھی پولی ٹیکنک طلبہ نے احتجاج کیا۔طلبہ کا کہنا ہے کہ کالجوں کو شکتی محکمہ میں ضم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے، ورنہ احتجاج مزید تیز کیا جائے گا۔
محبوب آباد ضلع میں پولی ٹیکنک کے طلباء نے جی او97 کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کلکٹریٹ کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کو کلکٹریٹ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ طلبا کے پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھگڑے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ طلباء نے الزام لگایا کہ ایک پولیس افسر نے دو طالب علموں کو گلے سے پکڑ کر پیچھے دھکیل دیا جس کے نتیجے میں سانس لینے میں دشواری ہوئی۔
محبوب آباد ضلع میں پولی ٹیکنک اسٹوڈنٹس کے احتجاج کے دوران پولیس کے غلط رویے پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ کلکٹریٹ کے گھیراؤ کی کوشش کرنے والے طلبہ و طالبات کو روکنے کے دوران پولیس اہلکار رگھوپتی ریڈی نے دو طلبہ کا گلا پکڑ کر انہیں گھسیٹا ۔پولیس نے دو طالب علموں کا گلا گھونٹا ۔اُنہیں گرانے کی کوشش کی۔
تلنگانہ میں پالی ٹیکنک کالجوں کو ضم کرنے کے فیصلے کے خلاف طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ نظام آباد میں پی ڈی ایس یو کی قیادت میں طلبہ نے کلیکٹریٹ تک احتجاجی ریلی نکالی اور حکومت سے فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔پولیس نے کلکٹریٹ کے گیٹ بند کرکے طلبہ کو روکنے کی کوشش کی، تاہم طلبہ نے رکاوٹیں ہٹا کر احتجاج جاری رکھا۔
ونپرتی ضلع مرکز پولی ٹیکنک کے طلباء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈپلومہ کورسز کو آئی ٹی آئی اور اے ٹی سی سے جوڑنے کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لے اور جی وی او نمبر 97 کو منسوخ کرے۔ طلباء نے پولی ٹیکنیک کالج سے کلکٹریٹ تک ریلی نکال کر کلکٹریٹ کے روبرو احتجاج منظم کیا بعد ازاں ضلع کلکٹر آدرش سورابھی کو یاداشت پیش کی اس موقع پر طلبہ نے کہا کہ ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کے نام پر ڈپلومہ کورسز کو آئی ٹی آئی اور اے ٹی سی سے جوڑنا درست نہیں ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے لائی گئی نئی قومی تعلیمی پالیسی کے ساتھ پولی ٹیکنک طلباء کو کارکنوں میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت، جسے پولی ٹیکنک کورسز کو اعلیٰ سطح پر لے جانا چاہیے، وہ ایسے فیصلے لے رہی ہے جس سے ان کی تنزلی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جی وی او نمبر 97 کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور اسکل یونیورسٹی کے نام پر طلباء کی زندگیوں سے نہ کھیلا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے طلباء کے مسائل حل نہ کیے تو وہ مستقبل میں مزید جدوجہد کریں گے۔
یہ طلبہ ’شکتی‘ اسکیم اور جی او 97 کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ اس واقعے کی ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد بی آر ایس نے حکومت اور پولیس پر سخت تنقید کی ہے۔ بی آر ایس نے اس پولیس افسر کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال پر بی آر ایس خاموش نہیں رہے گی۔