لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں اور شدید گولہ باری کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حملوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جبکہ کئی لوگوں کے ملبے تلے دبے ہونے یا لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں، طبی عملہ اور امدادی کارکن جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور جنوبی لبنان سرحدی جھڑپوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ حملوں نے خطے میں امن کی کوششوں اور جنگ بندی کی امیدوں کو مزید دھچکا پہنچایا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے رات بھر جنوبی لبنان میں متعدد اہداف پر حملے کیے ہیں، جبکہ حزب اللہ نے بھی علاقے میں شدید جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ نئی کشیدگی ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ امن معاہدے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مجوزہ مذاکرات، جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو شرکت کرنی تھی، لبنان میں بڑھتی ہوئی لڑائی کے باعث ملتوی کر دیے گئے۔ علاقائی ثالث اب جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے نئی سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جن میں ایک لیفٹیننٹ کرنل بھی شامل ہے۔ اسرائیلی فوج نے وادی بیکا کے علاقوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان دستخط شدہ معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی اور خطے کے امن و استحکام پر زور دیا گیا تھا، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ اس معاہدے کے براہ راست فریق نہیں ہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلائے، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی افواج اپنی سکیورٹی ضروریات کے مطابق وہاں موجود رہیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیل کے حالیہ اقدامات پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے نیتن یاہو سے لبنان کے معاملے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے اسرائیل کے دفاع میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی جنگ بندی اسی وقت ممکن ہے جب حزب اللہ حملے بند کر دے۔
لبنان میں جاری جھڑپوں کے باعث ایران نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات سے وقتی طور پر دور رہنے کا فیصلہ کیا، جس سے امن عمل کو دھچکا پہنچا ہے۔ مجوزہ مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی، سمندری سلامتی، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کے استحکام جیسے اہم معاملات پر بات ہونی تھی۔
اگرچہ ایران امریکہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو گئی ہے، لیکن لبنان میں جاری جنگ نے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی کوششوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔