لوکیش کی سینٹ پیٹرزبرگ کے سرکاری افسر سے ملاقات
محفوظ اور اسمارٹ شہروں کی تشکیل پر اہم بات چیت
ڈیجیٹل تعلیم اورانفراسٹرکچر کو فروغ پر توجہ
دونوں فریق نےمشترکہ ورکنگ گروپ بنانے کاکیا فیصلہ
روس کی روساٹم کمپنی کوریاست میں سرمایہ کاری کی دعوت
نارالوکیش کی نیوکلیئر منصوبوں پر بات چیت
ریاستی حکومت نے آندھرا پردیش میں محفوظ اورا سمارٹ شہروں کا انتظام کرنے کے لیے روس کے سینٹ پیٹرزبرگ کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ریاست کےوزیر برائے آئی ٹی اور انسانی وسائل نارا لوکیش نے، جو روس کے دورے پر ہیں، پولینا پولوکھینا سے ملاقات کی، جو سینٹ پیٹرزبرگ حکومت کے علاقائی خارجہ امور کے محکمے کی چیف ہیں۔ وزیر نارا لوکیش نے خود انکشاف کیا کہ اس میٹنگ میں مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لوکیش نے وضاحت کی کہ اس میٹنگ میں کئی اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے بنیادی طور پر شہریوں کے ساتھ محفوظ اورا سمارٹ شہروں کی تعمیر، ڈیٹا بیسڈ سٹی مینجمنٹ، ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینے اور شہروں میں قابل اعتماد انفراسٹرکچر بنانے جیسے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔امید کی جاتی ہے کہ یہ مشترکہ ورکنگ گروپ آندھراپردیش میں اسمارٹ شہروں کی ترقی اور انتظام کے حوالے سے تکنیکی علم اور تجربے کے اشتراک میں مدد کرے گا۔ عہدیداروں کو توقع ہے کہ یہ تعاون ریاست کے شہروں کو محفوظ اور جدید بنانے کی راہ ہموار کرے گا۔
روس کی روساٹم کمپنی کو آندھرا پردیش میں سرمایہ کاری کی دعوت
آندھرا پردیش کے وزیر تعلیم، آئی ٹی اور الیکٹرانکس نارا لوکیش نے روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں عالمی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کمپنی روساٹم (Rosatom) کے اہم نمائندوں سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وزیر لوکیش نے روساٹم کو آندھرا پردیش میں جدید نیوکلیئر منصوبے قائم کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بڑے صنعتی زونز کو صاف اور 24 گھنٹے بجلی فراہم کرنے کے لیے نئی نسل کے اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) قائم کیے جا سکتے ہیں۔
نارا لوکیش نے روساٹم سے بھارت میں نیوکلیئر میڈیسن اور فوڈ اریڈی ایشن سینٹر قائم کرنے پر بھی تعاون کی درخواست کی۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش کے میگا انڈسٹریل پارکس میں نیوکلیئر ڈیسالینیشن پلانٹ (سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کا منصوبہ) بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
روساٹم کے نمائندوں نے آندھرا پردیش حکومت کی تجاویز کا جائزہ لینے اور ممکنہ تعاون پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔