• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • یو پی میں مدرسوں کے خلاف بڑی کاروائی؛ تین کی منظوری منسوخ ،جانیے وجہ؟

یو پی میں مدرسوں کے خلاف بڑی کاروائی؛ تین کی منظوری منسوخ ،جانیے وجہ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 10, 2026 IST

یو پی میں مدرسوں کے خلاف بڑی کاروائی؛ تین کی منظوری منسوخ ،جانیے وجہ؟
اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے ریاست کے تین مدرسوں کی منظوری منسوخ کر دی ہے۔ یہ فیصلہ مدرسوں کے دستاویزات کی تفصیلی جانچ پڑتال اور تصدیق کے بعد کیا گیا ہے۔ یو پی مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے افسران کا کہنا ہے کہ ان مدرسوں نے طے شدہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے اور انتظامی معیارات پر پورا نہیں اتر رہے تھے، جس کی وجہ سے یہ سخت قدم اٹھانا پڑا۔
 
میڈیا رپورٹس کے مطابق اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ریاست بھر میں منظور شدہ اور غیر منظور شدہ مدرسوں کا معائنہ مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس دوران تین مدرسوں میں اساتذہ کی تقرری، طلبہ کی رجسٹریشن، بنیادی تعلیمی سہولیات اور ضروری دستاویزات میں سنگین خامیاں پائی گئیں۔ کچھ مدرسوں میں ایمپلائمنٹ کوڈ، مدرسہ ایکٹ اور دیگر معاملات سے متعلق سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ وہیں اس کاروائی کے بعد مسلم سماج ناراض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ جان بوجھ کر ایک کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔
 
جن تین مدرسوں کی منظوری منسوخ کی گئی :
 
جن تین مدرسوں کی منظوری منسوخ کی گئی ہے ان میں ایک سنت کبیر نگر کا مدرسہ، ایک اعظم گڑھ کا مدرسہ اور ایک لکھنؤ کا مدرسہ شامل ہے۔ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اتر پردیش کی اے ٹی ایس اور دیگر محکموں کے افسران کی معائنہ رپورٹ کے بعد ان مدرسوں کی منظوری معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ افسران کے مطابق یہ کارروائی کسی مخصوص ادارے یا طبقے کے خلاف نہیں ہے، بلکہ تعلیمی نظام میں شفافیت اور معیار برقرار رکھنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
 
اتر پردیش مدرسہ بورڈ نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست میں چلنے والے تمام مدرسوں کو سرکاری ضوابط اور قوانین کی مکمل پابندی کرنی ہوگی۔ اگر کسی مدرسے میں کوئی خرابی پائی جاتی ہے تو اس کے خلاف کاروائی جاری رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی، متاثرہ مدرسوں کو اپیل کرنے اور اپنا موقف پیش کرنے کا قانونی حق بھی دیا گیا ہے۔