دہلی پولس نے اسسٹنٹ کنٹریکٹر راجیش پرجاپتی کو جمعرات کی رات مغربی دہلی کے جنک پوری میں دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) کی طرف سے کھودے گئے گڑھے میں گر کر موٹر سائیکل سوار کی موت کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ اس کیس میں یہ پہلی گرفتاری ہے، جس نے حفاظتی کوتاہیوں پر بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ جنک پوری پولیس اسٹیشن نے ٹھیکیدار اور دہلی جل بورڈ کے متعلقہ عہدیداروں کے خلاف مجرمانہ قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔
یہ دل دہلا دینے والا واقعہ کیسے پیش آیا؟
پولیس نے بتایا کہ نوجوان کی شناخت کیلاش پوری کے رہائشی کمل دھیانی (25) کے طور پر ہوئی ہے۔ جمعرات کی رات تقریباً 8 بجے وہ روہنی میں اپنے آفس سے گھر واپس جا رہا تھا، تبھی جنک پوری کے قریب یہ حادثہ پیش آیا۔ اس کے اہل خانہ نے رات بھر اس کی تلاش کی اور تھانوں کے چکر لگائے۔ اس کے بعد صبح ساڑھے 7 بجے کمل بائیک سمیت گڑھے میں پڑا ملا۔ بتایا جا رہا ہے کہ نوجوان کا جسم رات بھر گڑھے میں پڑا رہا۔
معاون ٹھیکیدار نے موقع پر پہنچ کر بھی کوئی کاروائی نہیں کی:
پولیس نے بتایا کہ ایک خاندان نے اس رات واقعہ دیکھا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر موقع پر موجود ایک سیکیورٹی گارڈ اور گڑھے کے قریب ٹینٹ میں رہنے والے معاون ٹھیکیدار پرجاپتی کے ملازم کو اطلاع دی۔ ملازم نے فوراً پرجاپتی کو اطلاع دے دی۔ پولیس کے مطابق پرجاپتی کو رات 12:22 بجے اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچا تھا۔ اس نے بائیک اور کمل کو گڑھے میں پڑا دیکھ کر بھی کوئی کاروائی نہیں کی۔
پولیس ٹھیکیدار سے پوچھ گچھ کر رہی ہے:
پولیس نے بتایا کہ معاون ٹھیکیدار پرجاپتی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح یہ بھی جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ موقع پر پہنچنے کے بعد بھی اس نے نوجوان کو بچانے کے لیے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا۔ پولیس نے بتایا کہ ایف آئی آر میں DJB کے متعلقہ افسران کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان پر سیفٹی کے معیارات کی لاپرواہی اور واقعہ کی جگہ پر مناسب بیریکیڈنگ اور لائٹنگ نہ کرنے کے الزامات ہیں۔
دہلی حکومت نے سخت کاروائی کا وعدہ کیا:
دہلی کے وزیر داخلہ آشیش سود نے کہا کہ حکومت نے اس واقعہ کے بعد بلا تاخیر کاروائی کی ہے۔ اس سے قبل، انہوں نے کہا تھا، حکومت نے قصوروار افسران کو معطل کر دیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور تفصیلی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ جہاں بھی غفلت پائی جائے گی گرفتار کر لیا جائے گا۔ کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔ تحقیقات جاری ہیں، اور ہر سطح پر احتساب کو یقینی بنایا جائے گا۔