حیدرآباد کے کیئر ہاسپٹل سے وابستہ معروف نیورو سرجن اور برین و اسپائن اسپیشلسٹ ڈاکٹرایم روی کمار نے منصف ٹی کے پروگرام ہیلتھ اور ہم میں کمر کے درد اور لمبر ڈسک کے مریضوں کے لیے جدید علاج لمبر اینڈوسکوپک ڈسکٹومی، جسے عام طور پر کی ہول سرجری کہا جاتا ہے، کی افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔
ڈاکٹرایم روی کمار کے مطابق، کی ہول سرجری کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں صرف 8 سے 9 ملی میٹر کا ایک نہایت چھوٹا سوراخ کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے ہائی ریزولوشن اینڈوسکوپ ڈسک تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس جدید تکنیک میں فلوروسکوپی کی مدد سے متاثرہ ڈسک، جو عموماً L4-L5 یا L5-S1لیول پر ہوتی ہے، کی درست نشاندہی کی جاتی ہے اور اعصاب پر دباؤ ڈالنے والے ڈسک کے حصے کو نکال دیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ سرجری مکمل طور پر جنرل اینستھیزیا میں کی جاتی ہے، جس کے دوران مریض کو کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہوتا۔ سرجری کے فوراً بعد زیادہ تر مریضوں میں ٹانگ اور کمر کے درد میں نمایاں کمی آ جاتی ہے اور بعض کیسز میں علامات تقریباً ختم ہو جاتی ہیں۔
ڈاکٹر ایم روی کمار کے مطابق، لمبر اینڈوسکوپک سرجری روایتی اوپن سرجری سے بالکل مختلف ہے۔ ماضی میں بڑے چیرا لگا کر پٹھوں اور ہڈیوں کو کاٹنا پڑتا تھا، جس سے زیادہ نقصان اور طویل بحالی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جبکہ جدید اینڈوسکوپک تکنیک میں نہ پٹھے کاٹے جاتے ہیں اور نہ ہی غیر ضروری ہڈی نکالی جاتی ہے، جس کے باعث جسمانی نقصان نہایت کم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سرجری کے بڑے فوائد میں کم درد، کم اسپتال میں قیام، کم پیچیدگیاں اور تیز بحالی شامل ہیں۔ اکثر مریض سرجری کے اگلے ہی دن گھر جا سکتے ہیں اور 2 سے 4 دن کے اندر معمول کی سرگرمیاں اور کام دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔
پیچیدگیوں کے حوالے سے ڈاکٹر ایم روی کمار نے واضح کیا کہ تجربہ کار سرجن کے ہاتھوں یہ طریقہ تقریباً 95 سے 98 فیصد محفوظ ہوتا ہے۔ شاذ و نادر صورتوں میں CSF لیک یا معمولی انفیکشن ہو سکتا ہے، جس کا بروقت علاج ممکن ہے۔
آخر میں انہوں نے صحت مند ریڑھ کی ہڈی کے لیے چند اہم مشورے بھی دیے، جن میں درست نشست و برخاست()بیٹھنا اور اٹھنا)، مناسب وزن، باقاعدہ ورزش، درست طریقے سے وزن اٹھانا اور مناسب پانی پینا شامل ہیں۔ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ریڑھ کی ہڈی کی بیماریوں سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر رابی مینا کے مطابق، جدید اینڈوسکوپک اسپائن سرجری نے کمر کے درد کے علاج کو محفوظ، مؤثر اور مریض دوست بنا دیا ہے۔ اس موضوع پر ڈاکٹر کی مکمل گفتگو قارئین آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔