بہار کے وزیر اعلیٰ نیتش کمار نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے راجیہ سبھا جانے کا ارادہ کر لیا ہے۔ جسکے ساتھ ہی ریاست کے اگلے وزیر اعلیٰ کو لے کر بحثیں اور قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سالوں بعد یہ عہدہ اب بی جے پی کو مل سکتا ہے۔ جبکہ نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ نیتش کی جنتا دل یونائیٹڈ (JDU) کے حصے میں جا سکتا ہے۔
سمراٹ چودھری کا نام سب سے آگے :
نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کا نام سب سے آگے ہے۔ وہ حکومت سے لے کر تنظیم میں اہم عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ وہ دو بار نیتش حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ اس سے پہلے وہ نیتش حکومت میں وزیر بھی رہے اور ویدھان پریشد میں حزب اختلاف کے لیڈر کا کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ بی جے پی کے سکریٹری، نائب صدر سے لے کر صوبائی صدر بھی رہے ہیں۔ کوئری سماج سے تعلق کی وجہ سے وہ ذاتی مساوات میں بھی فٹ بیٹھتے ہیں۔
وجے سنہا بھی دوڑ میں :
نائب وزیر اعلیٰ وجے سنہا مسلسل 2010 سے رکن اسمبلی ہیں اور وزیر سے لے کر اسپیکر کے عہدے سنبھال چکے ہیں۔ سنہا کو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کا قریبی سمجھا جاتا ہے اور انہیں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کی بھی حمایت حاصل ہے۔ سمراٹ چودھری بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے راشٹریہ جنتا دل (RJD) اور JDU میں رہ چکے ہیں، لیکن سنہا شروع سے ہی بی جے پی میں ہیں۔ اس سے ان کی دعویٰ داری مضبوط ہو رہی ہے۔
JDU سے کون سے ناموں کی ہے بحث؟
JDU سے بھی وزیر اعلیٰ کے عہدے کو لے کر کئی ناموں کی بحث ہے۔ ان میں وجے چودھری کا نام سب سے آگے ہے۔ وہ اسپیکر رہ چکے ہیں اور کئی وزارتوں کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔ انہیں نیتش 'نمبر 2' اور 'ہنومان' سمجھتے ہیں۔ اشوک چودھری کا بھی نام سامنے آیا ہے۔ دلت ہونے کی وجہ سے ذاتی مساوات میں فٹ بیٹھ رہے ہیں۔ نیتش کے بیٹے نیشانت کی بھی فعال سیاست میں آنے کی خبریں ہیں۔
نئے نام سے حیران کر سکتی ہے بی جے پی :
بی جے پی اہم عہدوں کو لے کر حیران کرنے والے فیصلے کرتی رہی ہے۔ مدھیہ پردیش سے لے کر راجستھان اور چھتیس گڑھ میں یہ دیکھنے کو ملا تھا۔ اس بنیاد پر بحثیں ہیں کہ اس بار بھی بی جے پی نئے نام سے حیران کر سکتی ہے۔ اتی پچھڑا یا یادو چہرے پر داؤ لگانے کی خبریں ہیں۔ جبکہ اگر JDU کو موقع ملا تو نیتش اپنے ہی سماج کے کسی لیڈر یا EBC چہرے کو بھی آگے لا سکتے ہیں۔