Wednesday, April 15, 2026 | 26 شوال 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران تنازع ختم ہونے کے قریب :صدر ٹرمپ کا دعویٰ

ایران تنازع ختم ہونے کے قریب :صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 15, 2026 IST

ایران تنازع ختم ہونے کے قریب :صدر ٹرمپ کا دعویٰ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تنازعہ اختتام کے قریب ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور اس کے اثرات نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
 
ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا مکمل محاصرہ کر لیا ہے جبکہ ایران کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے انہیں بری طرح متاثر کیا ہے" اور اب صورتحال کا انحصار حتمی نتائج پر ہوگا، جو جلد سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے جوہری صلاحیت حاصل کر لی تو خطے میں خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔
 
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے پاس مزید سخت اقدامات کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم فی الحال تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہے تو ایران کے بنیادی ڈھانچے جیسے پل اور بجلی گھروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن مستقبل میں تعمیر نو کے پیش نظر ایسا نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو کافی حد تک کمزور کر دیا گیا ہے، اور موجودہ قیادت کو انہوں نے نسبتاً "معقول" قرار دیا۔
 
عالمی ردعمل کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ چین یا سعودی عرب کی جانب سے کوئی خاص مخالفت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وقتی طور پر اثر پڑے گا، لیکن جلد ہی معیشت سنبھل جائے گی۔ انہوں نے تیل کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ توقعات کے برخلاف قیمتیں کم سطح پر ہیں اور تنازع ختم ہونے کے بعد مزید کمی آئے گی۔ ان کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں بھی جلد نمایاں کمی متوقع ہے۔
 
صدر ٹرمپ نے اسٹاک مارکیٹ کے حوالے سے بھی امید ظاہر کی کہ تنازع کے خاتمے کے بعد مارکیٹ میں تیزی آئے گی۔ انہوں نے اپنے اقتصادی پیکج کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس میں چھوٹ جیسے اقدامات عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔
 
یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہ اہم سمندری راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت حساس سمجھا جاتا ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت، خصوصاً توانائی درآمد کرنے والے ممالک پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
 
واضح رہے کہ امریکہ طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت کرتا آیا ہے، جبکہ ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی وقتاً فوقتاً شدت اختیار کرتی رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔