جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سرینگر کے کشمیر ہاٹ میں “Know Your Artisan – Soulful Kashmir” کے عنوان سے ایک منفرد تقریب کا افتتاح کیا، جس کا مقصد وادی کی روایتی دستکاری کو فروغ دینا اور مقامی ہنرمندوں کو براہ راست عوام سے جوڑنا ہے۔
اس تقریب میں ہنرمندوں کی جانب سے لائیو دستکاری کے مظاہرے، مختلف مصنوعات کی نمائش اور عوام کے ساتھ براہ راست رابطے کا موقع فراہم کیا گیا۔ تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا، ہنرمندوں سے گفتگو کی اور ان کی تیار کردہ اشیاء بھی خریدیں۔ تقریب کے مناظر میں انہیں روایتی کشمیری ماحول میں لکڑی اور دھات کے کام کا مشاہدہ کرتے دیکھا گیا۔
اس موقع پر حکومت نے دستکاری اور ہینڈلوم کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کئی نئی ٹیکنالوجی اقدامات بھی متعارف کروائے۔ ان میں جی آئی (جغرافیائی شناخت) ٹیسٹنگ لیبارٹری، فائبر اینالیسز کے جدید آلات، ڈیزائننگ سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل ڈسپلے سسٹمز شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد کشمیری مصنوعات جیسے پشمینہ اور قالین کی عالمی سطح پر شناخت اور معیار کو یقینی بنانا ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج کہا کہ پرانی ترغیبی پالیسی کی مدت ختم ہونے کے بعد، حکومت اب نئی صنعت کاری پالیسی متعارف کرنے پر غور کر رہی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ٹیولپ گارڈن کے کھلنے سے اس سیزن کا آغاز ہو چکا ہے اور اب امید ہے کہ سیاح کشمیری دستکاری دیکھنے کے لیے کشمیر ہاٹ کا بھی رخ کریں گے۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک افتتاحی تقریب کے دوران حب الوطنی اور احترام کی منفرد مثال قائم کر دی۔ آج کشمیر ہاٹ میں ایک تقریب میں جب ان کے سامنے زعفرانی، سفید اور سبز یعنی قومی پرچم کے رنگوں پر مشتمل ربن پیش کیا گیا، تو انہوں نے اسے قینچی سے کاٹنے سے صاف انکار کر دیا۔ عمر عبداللہ نے ربن کو کاٹنے کے بجائے اسے نہایت احترام کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے کھولا اور منتظمین کے حوالے کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اسے باحفاظت اور پورے احترام کے ساتھ رکھا جائے۔ وزیر اعلیٰ کے اس اقدام کو سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔
دریں اثنا، وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر لائٹ انفنٹری سینٹر میں نوتعمیر شدہ وار میموریل کا بھی افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس رجمنٹ نے ملک کے مستقبل کے لیے قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اپنے خاندان کے اس رجمنٹ کے ساتھ دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ اس مقام پر آ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے رجمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس یادگار کی افتتاحی تقریب میں مدعو کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت جموں و کشمیر میں نہ صرف ثقافتی ورثے کے تحفظ بلکہ معاشی ترقی اور عوامی روابط کو بھی مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
تقریب میں سینئر رہنماؤں اور حکام نے بھی شرکت کی، جن میں سرندر چودھری، ناصر سوگامی، تنویر صادق اور سلمان علی ساگر شامل تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف مقامی ہنرمندوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے بلکہ کشمیر کی ثقافتی وراثت کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے گا۔