Wednesday, April 15, 2026 | 26 شوال 1447
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • قرضوں میں ڈوبا پاکستان: خلیجی ممالک کا دباؤ بڑھ گیا

قرضوں میں ڈوبا پاکستان: خلیجی ممالک کا دباؤ بڑھ گیا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 15, 2026 IST

قرضوں میں ڈوبا پاکستان: خلیجی ممالک کا دباؤ بڑھ گیا
قرضوں کے بوجھ تلے دبے پاکستان پر خلیجی ممالک کی جانب سے لیے گئے بڑے قرضوں کی واپسی کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے 3 ارب ڈالر کی واجب الادا رقم کو مزید مؤخر (رول اوور) کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے پاکستان کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
 
پاکستان کی معیشت کئی دہائیوں سے عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرامز پر انحصار کرتی رہی ہے۔ ہر پروگرام کے ساتھ اصلاحات کے وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن رقم ملنے کے بعد اکثر یہ وعدے پورے نہیں ہوتے۔ اس دوران خلیجی ممالک اور چین نے بارہا پاکستان کو مالی سہارا فراہم کیا، جس میں ڈپازٹس، قرضوں کی توسیع، مؤخر ادائیگیاں اور سی پیک منصوبوں کے لیے فنڈنگ شامل ہے۔ صرف چین کی سرمایہ کاری اور قرضوں کا حجم 25 ارب ڈالر سے زائد بتایا جاتا ہے۔
 
تاہم یہ "برادرانہ" امداد پاکستان کو خود کفیل بنانے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے بجائے یہ وقتی سہارا ثابت ہوئی ہے، جبکہ بنیادی مسائل جیسے کمزور ٹیکس نظام، بڑھتا ہوا توانائی قرضہ، غیر مؤثر سرکاری شعبہ اور سیاسی عدم استحکام جوں کے توں برقرار ہیں۔
 
اب صورتحال یہ ہے کہ خلیجی ممالک کا صبر بھی جواب دیتا دکھائی دے رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا قرض واپس مانگنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب وہ بغیر شرائط کے پاکستان کی مدد جاری رکھنے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری جانب پاکستان چین اور سعودی عرب سے مزید قرض حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
 
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت کے باوجود حکومت کی جانب سے مؤثر معاشی اصلاحات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایران جنگ کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے درآمدی بل بڑھا دیا ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
 
پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر بھی مکمل عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے ڈیزل پر سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم حکومت نے اس کے برعکس پٹرول پر ٹیکس کم کر دیا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی سمجھی جا رہی ہے۔
 
یہ صورتحال اس بات پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے اہداف، خصوصاً مالی خسارے کو کنٹرول کرنے جیسے اہداف، کیسے حاصل کرے گا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے موجودہ معاشی مسائل بڑی حد تک اس کی اپنی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، جن میں ٹیکس اصلاحات میں تاخیر اور غیر ضروری اخراجات پر قابو نہ پانا شامل ہے۔
 
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے پاکستان کی کمزور معیشت کو مزید بے نقاب کر دیا ہے، جس کے باعث ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔