Wednesday, April 15, 2026 | 26 شوال 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • پیڈیاٹرک ایمرجنسیزکیا ہیں۔ ہنگامی حالات میں کیا کریں والدین ؟

پیڈیاٹرک ایمرجنسیزکیا ہیں۔ ہنگامی حالات میں کیا کریں والدین ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 15, 2026 IST

پیڈیاٹرک ایمرجنسیزکیا ہیں۔ ہنگامی حالات میں کیا کریں والدین ؟
منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ہیلتھ اور ہم میں آج "A Parent’s Guide to Pediatric Emergencies at Home" کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جس میں کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن ڈاکٹر نامیتا دیشمکھ (MBBS، DCH، DNB Pediatrics، MRCPCH) نے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ یہ سیشن والدین میں بچوں کی صحت سے متعلق ہنگامی صورتحال کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

پیڈیاٹرک ایمرجنسیزکیا ہیں

ڈاکٹر نامیتا دیشمکھ نے بتایا کہ پیڈیاٹرک ایمرجنسیز سے مراد وہ اچانک اور سنگین طبی حالات ہیں جو بچوں میں فوری توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ ان میں تیز بخار کے ساتھ دورے (فیبرائل سیزرز)، شدید پانی کی کمی، سانس لینے میں دشواری، غلطی سے زہریلی چیز کھا لینا، جلنا، گرنا یا سر پر چوٹ لگنا شامل ہیں۔

بروقت پہچان سےجان بچائی جاسکتی ہے

انہوں نے کہا کہ اکثر ایسے حالات گھر میں ہی شروع ہوتے ہیں اور اگر والدین کو بروقت علامات کی پہچان ہو تو بچے کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر تیز بخار کے دوران آنے والے دورے اگرچہ خوفناک لگتے ہیں لیکن مناسب ابتدائی اقدامات سے انہیں سنبھالا جا سکتا ہے۔ اسی طرح دم گھٹنے، دوا یا کیمیکل کے غلط استعمال اور چوٹیں بھی عام گھریلو ایمرجنسیز ہیں۔

 ہر گھر میں ہو فرسٹ ایڈ 

ڈاکٹر نے والدین کو مشورہ دیا کہ ہر گھر میں فرسٹ ایڈ کٹ موجود ہونی چاہیے اور بنیادی ایمرجنسی اقدامات جیسے سی پی آر (Cardiopulmonary Resuscitation)، دورے کے دوران بچے کو محفوظ پوزیشن میں رکھنا اور دم گھٹنے کی صورت میں فوری اقدامات سیکھنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سنگین صورتحال میں گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

قریبی اسپتال منتقل کرنا ضروری 

علاج کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ ابتدائی گھر پر دیکھ بھال کے بعد فوری طور پر بچے کو قریبی اسپتال یا پیڈیاٹرک ایمرجنسی میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ اسپتال میں مریض کی حالت کے مطابق آکسیجن، آئی وی فلوئڈز، دوروں کی ادویات اور دیگر ضروری علاج فراہم کیا جاتا ہے۔

احتیاطی تدابیر 

انہوں نے مزید کہا کہ احتیاطی تدابیر میں گھر کو بچوں کے لیے محفوظ بنانا، خطرناک اشیاء کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا، مسلسل نگرانی اور بروقت ویکسینیشن شامل ہیں۔پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر نامیتا دیشمکھ نے کہا کہ والدین کی بروقت سمجھ بوجھ اور پرسکون رویہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بچے کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ قارئین ڈاکٹر کی مکمل  بات چیت پر مشتمل ویڈیو آپ یہاں دیکھ  سکتےہیں۔