ماؤسٹ نرہری نے 45 سال بعد پولیس کو خودسپرد کیا
تلنگانہ ڈی جی پی سی وی آنند نے تفصیلات بتائی
نرہری اور اس کی بیوی دھنما نے 12 مئی کو ہتھیار ڈالے
تلنگانہ پولیس نے آج میڈیا کے سامنے پیش کیا
ملک بھر میں 47 ماؤنواز اب بھی مفرور ہیں
ماؤنواز پارٹی میں ساڑھے چار دہائیوں (45 سال) کے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے پسونوری نرہری عرف سنتوش اور ان کی اہلیہ دھنما نے 12 مئی کو پولیس کے سامنے خودسپردگی کی۔ تلنگانہ کے ڈی جی پی سی وی آنند، نے ان دونوں کو آج حیدرآباد کے ڈی جی پی دفتر میں میڈیا کے سامنے پیش کیا۔اورکیس کی تفصیلات کا انکشاف کیا۔نرہری (64) سی پی آئی (ماؤسٹ) کی بہار-جھارکھنڈ اسپیشل ایریا کمیٹی (بی جے ایس اے سی) کے سکریٹری بھی ہیں۔ان کی اہلیہ، میڈارا دانما عرف لتا، جو کہ ریاستی کمیٹی کی رکن ہیں، نے بھی پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اسٹریٹجک اقدامات کی وجہ سے ملک میں ماؤنوازوں کا اثر تقریباً کم ہو گیا ہے۔
ڈی جی پی نے وضاحت کی کہ 2024 سے اب تک ملک بھر میں 822 ماؤنوازوں نے 334 ہتھیاروں کے ساتھ پولیس کے سامنے خودسپردگی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو انعامات بھی دیئے جا رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے 31 مارچ 2026 تک ملک میں ماؤنوازوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے مقصد کے ساتھ 'آپریشن کاگر' شروع کیا ہے۔ ڈی جی پی سی وی آنند نے کہا کہ چھتیس گڑھ جیسے علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے مسلسل کومبنگ آپریشنز کی وجہ سے ہتھیار ڈالنے اور تبدیلیوں کی یہ سطح ممکن ہوئی ہے۔
ڈی جی پی نے کہا کہ ماؤ نواز مرکزی کمیٹی کے 47 ارکان ملک بھر میں ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ان میں سے 15 چھتیس گڑھ، 15 اڈیشہ، 13 جھارکھنڈ، تین تلنگانہ اور ایک آندھرا پردیش سے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے مرکزی کمیٹی کے ارکان موپلا لکشمنا راؤ عرف گنپتی، جیڈ رتنابائی عرف سجتا اور ورتھا شیکھر عرف منگو سے فوری طور پر ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ہتھیار ڈالنے والوں کو مکمل بحالی کی سہولیات اور ہر قسم کے فوائد فراہم کرے گی۔