Saturday, May 23, 2026 | 05 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • چین کی کوئلہ کان میں زور دار دھماکہ، اب تک 82 کان کنوں کی ہلاکت کی تصدیق

چین کی کوئلہ کان میں زور دار دھماکہ، اب تک 82 کان کنوں کی ہلاکت کی تصدیق

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 23, 2026 IST

چین کی کوئلہ کان میں زور دار  دھماکہ، اب تک 82 کان کنوں کی ہلاکت کی تصدیق
شمالی چین کے صوبے شانسی سے ایک انتہائی دردناک خبر سامنے آئی ہے۔ یہاں  چانگژی شہر کے'قین یوآن کاؤنٹی میں واقع 'لیوشینیو کوئلہ کان' میں اچانک ایک زوردار اور دھماکہ ہوا۔ یہ دھماکہ اس قدر زور دار تھا کے اس میں اب تک کم سے کم 82 مزدوروں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 9 کان کن ابھی بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔
 
حادثے کے وقت زمین کے نیچے 247 مزدور تھے موجود:
 
چینی سرکاری میڈیا اور مقامی ایمرجنسی مینجمنٹ بیورو کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، جب یہ ہولناک دھماکہ ہوا، اس وقت کان کے اندر زمین کے نیچے مختلف حصوں میں کُل 247 مزدور شفٹ پر کام کر رہے تھے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ زیرِ زمین کام کرنے والے کئی مزدوروں کو باہر نکلنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ تاہم، امدادی ٹیموں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد کان کنوں کو بحفاظت باہر نکال لیا ہے۔
 
زہریلی گیسوں کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات:
 
واقعے کے فوراً بعد جائے حادثہ پر بھاری تعداد میں ریسکیو ٹیموں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ کان کے اندرونی حصوں اور ٹنل میں کاربن مونو آکسائیڈ جیسی انتہائی زہریلی گیس کا لیول مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہونے کی وجہ سے ابتدائی مراحل میں امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لاپتہ 9 مزدوروں کی تلاش کے لیے اب بھی کان کے اندر جنگی بنیادوں پر سرچ آپریشن جاری ہے۔
 
صدر شی جن پنگ کے سخت احکامات؛ کمپنی کے اعلیٰ حکام حراست میں:
 
اس بڑے اور المناک حادثے پر چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے مقامی انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ زخمیوں کے بہترین علاج اور لاپتہ افراد کو باحفاظت باہر نکالنے کے لیے اپنی پوری طاقت جھونک دیں۔
 
اس کے ساتھ ہی انہوں نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی سائنسی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کے ذمہ دار کان انتظامیہ کے اہلکاروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔ چینی میڈیا کے مطابق، معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مائننگ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔