اتراکھنڈ میں گنگوتری مندر میں غیر ہندوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ گنگوتری مندر کمیٹی کی میٹنگ میں متفقہ طور پر لیا گیا۔ مندر کمیٹی کے اس فیصلے نے ملک میں ایک اور تنازع پیدا کر دیا ہے، جس پر سیاست دانوں اور مسلم تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ ارشد مدنی اور سہارنپور کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے اس فیصلے کو امتیازی اور آئینی اقدار کے خلاف قرار دیا ہے۔
مذہبی مقامات میں غیر ہندوں کے داخلے پر پابندی کے بارے میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی نے کہا کہ،انہیں لگتا ہے کہ یہ ملک انکا ہے،اور وہ عوام کو کسی بھی سمت لے جا سکتے ہیں۔مزید انہوں نے کہا کہ 'لیکن وقت بدل گیا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ لوگ آپس میں پیار اور بھائی چارے سے رہیں، اور جمعیۃ علماء ہند یہی سکھاتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا، یہ صرف کیدارناتھ میں نہیں ہو رہا ہے۔ آسام میں پوری کالونیوں کو منہدم کیا جا رہا ہے، اور لاکھوں مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دیا جا رہا ہے۔
کانگریس ایم پی نے اہم بیان دیا:
گنگوتری دھام تنازع پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ انہوں نے عجیب صورتحال پیدا کر دی ہے، اگر آپ شہری ہیں تو اپنی شہریت ثابت کریں، حکومت کچھ ثابت کرے یا نہیں؟ آئین نے ہمیں مذہبی آزادی دی ہے، اب وہ شنکراچاریہ کو نوٹس بھیج کر پوچھیں گے کہ وہ شنکراچاریہ ہیں یا نہیں؟ اب وہ ہندوؤں سے بھی سوال کرنے لگے ہیں،پوچھ رہے ہیں کہ کیا وہ ہندو ہیں یا نہیں؟کوئی کیسے ثابت کرے گا کہ وہ ہندو ہے؟ کیا یہ بہت عجیب سوال نہیں ہے؟
کیا ہے پورا معاملہ؟
25 جنوری کو شری گنگوتری مندر کمیٹی کی میٹنگ میں ایک متفقہ فیصلے کے بعد اتراکھنڈ کے گنگوتری دھام میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ شری گنگوتری مندر کمیٹی کے چیئرمین سریش سیموال نے کہا کہ فیصلے کے مطابق دھام میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پابندی کا اطلاق دیوتا کی سردیوں کی رہائش گاہ مخبہ پر بھی ہوگا۔
وہیں بدری ناتھ-کیدارناتھ ٹیمپل کمیٹی کے چیئرمین ہیمنت دویدی نے کہا، دونوں مندروں اور مندر کمیٹی کے تحت آنے والے تمام مندروں میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی لگانے کی تجویز آئندہ بورڈ میٹنگ میں پیش کی جائے گی۔ گنگوتری دھام میں غیرہندوؤں کے داخلے پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔ اتوار کو گنگوتری مندر کمیٹی کی میٹنگ میں اس سلسلے میں متفقہ فیصلہ لیا گیا۔ اسی تناظرمیں کیدارناتھ اور بدری ناتھ ٹیمپل کمیٹی (KBTC)کی تجویز بھی آئی ہے۔