جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض اور جعلی مواد سوشل میڈیا پر پھیلانے کے معاملے میں میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سری نواس سمیت کئی فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے یہ کاروائی دو افراد کی شکایات کی بنیاد پر کی ہے۔ شکایت کنندگان نے الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی تھیں جن میں وزیر اعظم کو ڈیجیٹل طریقے سے تبدیل کرکے توہین آمیز اور گمراہ کن انداز میں پیش کیا گیا۔
شکایت میں کیا الزام لگایا گیا؟
پہلے معاملے میں 29 سالہ تاجر ایس اروند ریڈی نے پولیس کو بتایا کہ انسٹاگرام استعمال کرتے ہوئے انہیں کئی ایسی ویڈیوز اور تصاویر نظر آئیں جو مبینہ طور پر مورفڈ اور ڈیجیٹل طور پر تبدیل کی گئی تھیں۔ شکایت کے مطابق، ان مواد میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق تبدیل شدہ تصاویر اور ویڈیوز شامل تھیں۔ الزام لگایا گیا کہ یہ مواد ڈیجیٹل ایڈیٹنگ یا مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کیا گیا اور بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔
جعلی مواد سے نقصان کا خدشہ
شکایت میں کہا گیا کہ اس طرح کے مواد سے عوام گمراہ ہو سکتے ہیں، غلط معلومات پھیل سکتی ہیں، عوامی شخصیات کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور مختلف طبقات کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
دوسرے معاملے میں بی جے پی کارکن کی شکایت
دوسرے معاملے میں تلنگانہ بی جے پی کے کارکن اور سوشل میڈیا سیل کے رکن ٹی سیکرن گوڈ نے شکایت درج کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیس بک اور انسٹاگرام پر انہیں قابل اعتراض ریلز اور مورف شدہ تصاویر نظر آئیں۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ ایسے اکاؤنٹس کی تحقیقات کی جائیں جو مبینہ طور پر ہندوستان کی خودمختاری، سالمیت اور امن کے لیے نقصان دہ مواد پھیلا رہے ہیں۔
پولیس کی کاروائی اور دفعات
پولیس کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ زیادہ تر متنازع ویڈیوز یا تو حذف کر دی گئی ہیں یا بھارت میں ان تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔ پولیس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66-C (شناخت کی چوری)، دفعہ 67 (الیکٹرانک شکل میں فحش مواد کی اشاعت یا ترسیل) کے علاوہ بھارتی قانون کی دفعہ 353 (2) اور دفعہ 336 (4) کے تحت مقدمات درج کیے ہیں۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے۔
میٹا نے پالیسی میں تبدیلی کا دعویٰ کیا
دوسری جانب، میٹا نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ اس نے صارفین کی شکایات حل کرنے کے لیے اپنے نظام میں تبدیلی کی ہے اور اب شکایات پر فوری کاروائی کی جا رہی ہے۔ کسی نے عدالت میں درخواست دی تھی کہ سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس، غلط مواد اور دیگر مسائل کو روکا جائے۔ اسی کیس کی سماعت کے دوران میٹا نے بتایا کہ اس نے شکایات حل کرنے کا نظام بہتر کر دیا ہے۔
عدالت میں سماعت
سماعت کے دوران میٹا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی نے شکایات کے ازالے کے نظام کو بہتر بنایا ہے۔ چیف جسٹس منوج کمار گپتا اور جسٹس سبھاش اپادھیائے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے کام میں موجود خامیوں اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کریں، تاکہ ایسے واقعات کو بہتر طریقے سے روکا جا سکے۔