امریکہ میں "نو کنگز ڈے" کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے، جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ان مظاہروں کو حالیہ حکومتی پالیسیوں، خاص طور پر خارجہ امور اور امیگریشن سے متعلق فیصلوں کے خلاف عوامی ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔
ریاست مائنے سوٹا اس احتجاج کا مرکز بن کر سامنے آئی، جہاں دارالحکومت سینٹ پال میں واقع ریاستی کیپیٹل کے اطراف بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر جنگ مخالف اور جمہوریت کے حق میں نعرے درج تھے۔ اس موقع پر کئی مظاہرین نے امریکی پرچم کو الٹا لہرا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، جو روایتی طور پر کسی ہنگامی یا بحرانی صورتحال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ممکنہ جنگ کے خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت سفارتی ذرائع کو ترجیح دے۔ مظاہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امیگریشن پالیسیوں میں سختی نے معاشرتی تقسیم کو بڑھایا ہے اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر معروف امریکی گلوکار بروس اسپرنگس ٹین نے بھی مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا اور ایک خصوصی گانا پیش کیا۔ یہ گانا حالیہ فائرنگ کے واقعات اور امیگریشن پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے نام کیا گیا، جسے مظاہرین نے خوب سراہا۔ ان کی شرکت نے مظاہرے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا اور اس پیغام کو تقویت دی کہ یہ احتجاج صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی گہری اہمیت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے امریکہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم، عوامی بے چینی اور پالیسیوں پر اختلافات کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول تک پرامن احتجاج جاری رکھیں گے اور حکومت سے پالیسیوں میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔