Monday, May 04, 2026 | 16 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • گنگوتری سے گنگا ساگر تک کمل کھلتا ہے: اسمبلی نتائج پر پی ایم مودی کا بیان

گنگوتری سے گنگا ساگر تک کمل کھلتا ہے: اسمبلی نتائج پر پی ایم مودی کا بیان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 04, 2026 IST

گنگوتری سے گنگا ساگر تک کمل کھلتا ہے: اسمبلی نتائج پر پی ایم مودی کا بیان
 
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زبردست کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے اسے ترنمول کانگریس کی رجعت پسند حکمرانی پر گڈ گورننس کی جیت قرار دیا۔ وزیراعظم نے بی جے پی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔، پارٹی کی جیت کی تقریبات میں شرکت   کی ۔ اور ہزاروں کارکنان کے سامنے ایک پرجوش تقریر بھی کی ۔  بی جےپی نے بنگال، آسام  میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔ اور  ساتھ ہی دیگر علاقوں میں بھی  اپنی انٹردی درج کرائی ہے۔ ملک کی چار ریاستوں اور ایک یوٹی میں ووٹوں کی گنتی  کےلئے 4 مئی کو انتظامات کئے گئے تھے۔

گنگوتری سے گنگا ساگر تک کمل

 وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی تاریخی جیت کے ساتھ گنگوتری سے گنگا ساگر تک کمل اب کِھل رہا ہے اور تمام جماعتوں سے کہا کہ وہ تبدیلی کے لیے کام کریں، بدلہ لینے کے لیے نہیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریاست کا مستقبل خوف سے بالاتر ہو۔مغربی بنگال، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات میں جیت کے بعد پارٹی ہیڈکوارٹر میں بی جے پی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ یہ کئی طریقوں سے ایک خاص دن ہے کیونکہ یہ ملک کے روشن مستقبل کی نوید دیتا ہے۔

ملک سے کمیونسٹ پارٹی کا خاتمہ ہو چکا 

پورے ملک سے کمیونسٹ پارٹی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ یہ محض گورننس میں تبدیلی نہیں ہے بلکہ یہ نظریے میں تبدیلی ہے۔ آج کا ہندوستان ترقی، مواقع، اعتماد، ترقی اور استحکام کی خواہش رکھتا ہے۔ لوگ ایسے لیڈروں کی تلاش میں ہیں جو ملک کی ترقی کو آگے بڑھا سکیں۔

  کانگریس شہری نکلیوں کا ٹولہ 

بدقسمتی سے کانگریس پارٹی مخالف سمت میں چل رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کمیونزم کو ملک بھر میں مسترد کر دیا گیا ہے، کانگریس بھی اسی نظریے کو اپنا رہی ہے۔ جب کہ جنگلوں میں ماؤ ازم کا خاتمہ ہو رہا ہے، کانگریس کے اندر اس کا اثر بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں کانگریس شہری نکسلیوں کا ٹولہ بن گئی ہے۔

 یوپی میں سماج وادی پارٹی کو سبق سکھائیں گی خواتین

کیرالہ میں بائیں بازو کی دس سالہ غلط حکمرانی سے کانگریس پارٹی کو یقیناً فائدہ ہوا ہے۔تاہم مجھے یقین ہے کہ کیرالہ کی خواتین آئندہ انتخابات میں کانگریس کو ضرور سبق سکھائیں گی۔پارلیمنٹ میں خواتین کے ریزرویشن کی راہ میں رکاوٹ بننے والی سماج وادی پارٹی کو بھی اتر پردیش کی خواتین کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔عورت مخالف سماج وادی پارٹی چاہے کچھ بھی کر لے، وہ اپنے گناہوں کو کبھی نہیں دھو سکے گی۔

پہلی بار جمہوریت کی جیت ہوئی، خوف نہیں!

بنگال کے یہ انتخابات ایک اور وجہ سے خاص رہے ہیں۔اس سے قبل بنگال میں انتخابات کے دوران تشدد، خوف اور بے گناہ لوگوں کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ تاہم اس بار خبر مختلف تھی۔ بنگال میں پرامن ووٹنگ ہوئی۔ پہلی بار ووٹنگ کے دوران کسی کی جان نہیں گئی۔ جمہوریت کے اس تہوار میں عوام کی آواز گونجی۔
 
مغربی ایشیا کے بحران سے پوری دنیا بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تاہم بھارت اس بحران کا پورے اعتماد کے ساتھ سامنا کر رہا ہے۔انتخابی نتائج نے ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان اس چیلنج میں ایک مقصد کی طرف متحد ہے۔ وہ مقصد وکشت بھارت ہے۔"یہ ہندوستان کی عظیم جمہوریت پر اعتماد کا دن ہے، کارکردگی کی سیاست پر بھروسہ، استحکام کے عزم پر بھروسہ، ایک بھارت، شریسٹھا بھارت کے جذبے پر بھروسہ کیا۔بنگال کے مینڈیٹ کو "عوامی طاقت کا مظاہرہ" قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی گڈ گورننس کی سیاست نے فتح حاصل کی ہے اور ریاست کے ہر فرد کے خوابوں اور امنگوں کو پورا کرنے کا عہد کیا ہے۔"میں مغربی بنگال کے ہر فرد کے سامنے جھکتا ہوں۔ عوام نے بی جے پی کو شاندار مینڈیٹ دیا ہے اور میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ہماری پارٹی مغربی بنگال کے لوگوں کے خوابوں اور امنگوں کو پورا کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ ہم ایک ایسی حکومت فراہم کریں گے جو معاشرے کے تمام طبقات کو مواقع اور وقار کو یقینی بنائے،" ۔
 
وزیر اعظم نے مغربی بنگال میں بی جے پی کی زبردست جیت کو یقینی بنانے کے لیے ان کی مسلسل کوششوں اور جدوجہد کے لیے 'کریاکارتا' (پارٹی کارکنوں) کو بھی سلام کیا۔انہوں نے X پر لکھا، "برسوں تک، انہوں نے (بی جے پی کارکنوں) نے زمین پر سخت محنت کی، ہر طرح کی مشکلات پر قابو پایا اور ہمارے ترقیاتی ایجنڈے کے بارے میں بات کی۔ وہ ہماری پارٹی کی طاقت ہیں۔ میں انہیں سلام کرتا ہوں،" انہوں نے X پر لکھا۔مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی بنگال انتخابات کے نتائج کا خیرمقدم کیا اور ریاست کو 'سونار بنگلہ' میں تبدیل کرنے کے لیے اس موقع کو استعمال کرنے کا عہد کیا۔
 
"جن امیدوں اور امنگوں کے ساتھ بنگال نے وزیر اعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں یہ بھروسہ ظاہر کیا ہے، ہم انہیں ضرور پورا کریں گے۔ بی جے پی بنگال کی کھوئی ہوئی شان کو بحال کرنے کے لیے دن رات کام کرے گی، چیتنیہ مہا پربھو، سوامی وویکانند، کوی گرو ٹیگور، نیتا جی سبھاش چندر بوس، اور ڈاکٹر پرمساد کے خواب کو حقیقی بنانے جیسی عظیم ہستیوں کی مقدس سرزمین۔ 'سونار بنگلہ'۔وزیر داخلہ ریاست میں خوشامد کی سیاست پر تنقید میں بھی بے نیاز رہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مغربی بنگال کے لوگوں نے دراندازوں اور ان کے ہمدردوں کو سبق سکھایا ہے اور جو لوگ خوشامد کی سیاست میں ملوث ہیں وہ اسے کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔