جنید اور ناصر قتل کیس میں دہلی سے متصل سائبر سٹی گروگرام کے رہنے والے موہت یادو عرف مونو مانیسر کو ضمانت مل گئی ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ کی ضمانت کے بعد مانیسر اپنے گاؤں مانیسر واپس آئے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق مونو مانیسر کے گاؤں پہنچنے پر لوگوں نے پھولوں کی مالاؤں اور آتش بازی کے ذریعے ان کا استقبال کیا۔ اس دوران حامیوں کی جانب سے “گاؤ ماتا کی جے” کے نعرے بھی لگائے گئے۔
راجستھان میں قتل کا مقدمہ درج
مونو کے خلاف راجستھان میں جنید اور ناصر کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ نوح میں جل ابھیشیک یاترا کے دوران اشتعال انگیز تقریر کرنے پر نوح پولیس اسٹیشن میں بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ مونو مانیسر جنید اور ناصر قتل کیس کے سلسلے میں گزشتہ ڈھائی سال سے جیل میں تھے۔ مونو مانیسر کو اب راجستھان ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی ہے۔ مونو مانیسر جب مانیسر میں اپنے گھر پہنچے تو وہاں موجود گاؤ رکھشکوں اور گاؤں والوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
سخت سکیورٹی میں گاؤں روانگی
رہائی کے بعد مونو مانیسر کو سخت سکیورٹی میں جیل سے باہر لایا گیا۔ انہیں بلیٹ پروف جیکٹ پہنائی گئی اور پولیس کی گاڑیوں نے ان کی گاڑی کو اسکواڈ کے طور پر گھیرے رکھا۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ مونو مانیسر پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں امید ہے کہ عدالت آئندہ سماعتوں میں ان کے حق میں فیصلہ دے گی۔