ایران کی ماہرین کی اسمبلی نے اتوار کو اعلان کیا کہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔
روس اسلامی جمہوریہ ایران کا قابل اعتماد شراکت دار
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے پیر کے روز ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارکباد کا پیغام بھیجا جس میں کہا گیا ہے کہ روس اسلامی جمہوریہ ایران کا قابل اعتماد شراکت دار رہا ہے اور رہے گا۔"ایک ایسے وقت میں جب ایران کو مسلح جارحیت کا سامنا ہے، اس اعلیٰ عہدے پر آپ کا کام بلاشبہ بڑی ہمت اور لگن کا متقاضی ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ باعزت طریقے سے اپنے والد کے کاز کو جاری رکھیں گے اور سخت آزمائشوں میں ایرانی عوام کو متحد کریں گے،" کریملن کی سرکاری ویب سائٹ پر پوتن کے حوالے سے کہا گیا ہے۔
تہران کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت
پوتن نے کہا کہ "ہماری طرف سے، ہم تہران کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت اور اپنے ایرانی دوستوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرنا چاہیں گے۔ روس ایران کا قابل بھروسہ شراکت دار رہا ہے اور رہے گا۔"
ماسکو اپنے اتحادی کےساتھ کھڑا رہےگا
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی بلندی پر پہنچنے کے بعد ایران کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ ماسکو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری تعطل میں اپنے اتحادی کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ پیوٹن نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ موجودہ بحران میں ملک کی موثر قیادت کر سکیں گے۔
جارحیت کو پسپا کرنے کے لیے مجتبیٰ کی قیادت کی ضرورت
پوتن نے کہا کہ ایران کو اپنی سرحدوں پر مسلح جارحیت کو پسپا کرنے کے لیے مجتبیٰ کی قیادت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سابق ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ رہنماؤں کی حالیہ ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ بین الاقوامی پابندیوں اور جنگ کے خطرے کے درمیان روس اور ایران کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تزویراتی تعلقات مغربی ایشیا میں سیاسی مساوات کو تیزی سے بدل رہے ہیں۔ روس کی طرف سے یہ عوامی یقین دہانی ایران کو بین الاقوامی سطح پر زبردست اخلاقی طاقت فراہم کرے گی۔